انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 597 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 597

۵۹۷ اسلام کیلئے کربلا کا زمانہ اس آفت و مصیبت کے زمانہ میں کہ اسے کربلا کا زمانہ کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کیونکہ کفر و ضلالت کے لشکر محمد رسول اللہ ﷺ کے لائے ہوئے دین کو اسی طرح گھیرے ہوئے ہیں کہ جس طرح کربلا کے میدان میں حضرت امام حسین رضی الله عنه کو یزید کی فوجوں نے گھیرا ہوا تھا۔آہ ! آج اسلام کی وہی حالت ہے جو ذیل کے شعر میں بیان ہوئی ہے کہ ہر طرف کفر است جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بے کس ہمچو زین العابدين اشتراک عمل کی دعوت پس میں امید کرتا ہوں کہ مرکزی خلافت کمیٹی اپنے فیصلہ میں مندرجہ بالا تبدیلی کر کے دشمنان اسلام کے دلوں پر ایک کاری حربہ چلائے گی اور ان کی تازہ امیدوں کو خاک میں ملا دے گی اور مقامی انجمن ہائے خلافت بھی اپنے جلسوں کو کسی اور وقت اور دن پر ملتوی کر دیں گی اور ان جلسوں کو جو تمام اسلامی فرقوں اور سوسائیٹیوں کی طرف سے مشترک طور پر ہونے والے ہیں، ان میں اپنے مقرر وقت پر منعقد ہونے میں مزاحم نہ ہوں گی بلکہ مدد گار اور شریک بنیں گی۔سِول نافرمانی کے تباہی خیز نقصانات پھر ان احباب کو جو سول نافرمانی کو اس وقت کی مشکلات کا حل سمجھتے ہیں۔مخلصانہ مشورہ دیتا ہوں کہ یہ خیال در حقیقت گاندھی جی کا پھیلایا ہوا ہے اور اس کے عیب و ثواب پر پوری طرح غور نہیں کیا گیا۔میرے نزدیک اگر غور کیا جائے تو آسانی سے سمجھا جا سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے موجودہ حالات میں سول نافرمانی سے زیادہ خطرناک اور کوئی چیز نہیں ہو سکتی۔اور یقینا ً اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کی تمدنی اور اقتصادی حالت پہلے سے بھی خراب ہو جائے گی۔اور عدم تعاون کے دنوں میں ہندوؤں نے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچایا تھا اور جس کے اثر کو وہ کئی سالوں میں جا کر بہ مشکل دور کر سکے ہیں اس سے بھی زیادہ اب نقصان پہنچ جائے گا۔اس وقت ہمارا مقابلہ ہندوؤں سے ہے اسے بھائیو! ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس وقت ہمارا مقصد کیا ہے اور پھر اس کے مطابق ہمیں علاج کرنا چاہئے کیونکہ دانا وہی ہوتا ہے جو تشخیص کے بعد مرض کا علاج شروع کرتا ہے۔اب میں پوچھتا ہوں کہ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہمارا اس وقت مقصد یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ