انوارالعلوم (جلد 9) — Page 563
۵۶۳ گو اس وقت تک مسلمان اس کو واضح الفاظ میں بیان نہ کر سکتے ہوں لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس فیصلہ میں ہر ایک مسلمان اپنی ہتک محسوس کرتا ہے۔وہ یہ نہیں خیال کرتا کہ اس فیصلہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کی گئی ہے کیونکہ کنور صاحب نے صاف لکھا ہے کہ آپ کی نسبت ہتک آمیز الفاظ لکھنے والے کو سزا ملنی چاہئے۔(گو وہ یہ سمجھتا ہے کہ اس فیصلہ سے آپ کی ہتک کا دروازہ کھل گیا ہے) مگر وہ یہ ضرور خیال کرتا ہے کہ اس فیصلہ کا یہ مطلب ہے کہ ایک مسلمان کو یہ تو حق ہے کہ اگر اسے کوئی شخص گالی دے تو اس پر وہ ناراض ہو لیکن اسے اس شخص سے نفرت کرنے کا حق نہیں ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے۔اگر اس موقع پر منافرت پیدا ہوتی ہے تو یہ اس کی اشتعال انگیز طبیعت کا نتیجہ ہے۔اس کے فطری تقاضوں کا نتیجہ نہیں ہے۔مسلمان اور حُبِّ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اب ایک مسلمان کے نزدیک یہ خیال کہ اس کی نسبت یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اگر خود اُسے گالی دی جائے تو اُسے غصہ آجانا چاہئے لیکن اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی جائے تو اس کے دل میں جائز طور پر منافرت کے جذبات نہیں پیدا ہونے چاہئیں اس کی سب سے بڑی ہتک ہے۔وہ اسے بے غیرتی کا اور سب سے بڑی بے غیرتی کا الزام سمجھتا ہے اور ایک منٹ کے لئے بھی اس کو برداشت نہیں کر سکتا۔حق یہ ہے کہ ہر مسلمان اپنی ذات کے متعلق سخت کلامی کو اکثر اوقات معافی کے قابل ملتا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فدا نفسى وروحی کے متعلق ایک ادنی ٰ کلمہ گستاخی کا سن کر بھی وہ برداشت نہیں کر سکتا اور اگر اسے یہ معلوم ہو کہ ایسا کلمہ استعمال کرنے والا اپنی قوم کی تائید اپنے ساتھ شامل رکھتا ہے تو وہ اس قوم کو بھی نہایت ہی حقیر اور ذلیل سمجھتا ہے۔پس جب ایک مسلمان یہ سنتا ہے کہ ایک فاضل جج قانون منافرت بین الا قوام کے معنے صرف یہ لیتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف بہ حیثیت قوم کچھ نہ کیا جائے اور یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کچھ کہنا باعث منافرت نہیں کہلا سکتا تو وہ اس میں اپنی ہتک سمجھتا ہے اور اپنے ایمان پر حملہ خیال کرتا ہے اورجج کی نیت اچھے ہونے یا بُرے ہونے کا اس میں کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اگر فاضل ججان ہائی کورٹ مسلمانوں کے اس احساس کو مدنظر رکھتے تو انہیں مسلم آؤٹ لک کے مضمون کی حقیقت کو سمجھنا آسان ہو جاتا۔مگر افسوس ہے کہ انہوں نے مضمون کے مختلف پہلوؤں پر غور نہیں کیا اور یہی سمجھ لیا کہ اس میں ایک جج پر بد نیتی کا الزام لگایا گیا ہے اور ایک ایسا فیصلہ کر دیا جس سے مسلمانوں