انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 564

۵۶۴ کے دل اور بھی مجروح ہو گئے ہیں اور ان کی طبائع میں اور بھی جوش پیدا ہو گیا ہے۔اور اب مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی کریں جو ان کے نزدیک صرف اسلام کی عزت کی حفاظت کے لئے جیل خانہ گئے ہیں۔اور ہر سچا مسلمان اس وقت تک صبر نہیں کرے گا جب تک کہ وہ اس بارہ میں اپنے فرض کو ادا نہ کرے۔اب ہمیں کیا کرنا چاہئے فیصلہ کے متعلق اپنے خیالات ظاہر کرنے کے بعد میں اس سوال کو لیتا ہوں کہ اب ہمیں کیا کرنا چاہئے۔اور پیشتر اس کے کہ میں اپنے خیالات کو بیان کرو میں ان تین امور پر جو اس وقت تک بطور علاج کے بیان کے گئے بحث کرنی چاہتا ہوں۔عدالتوں سے مقاطعہ ایک علاج بعض لوگوں نے یہ تجویز کیا ہے کہ ہم عدالت عالیہ سے مقاطعہ کریں۔میرے نزدیک علاج وہ ہوتا ہے جس کا ہمیں فائدہ پہنچے۔لیکن اگر اس علاج پر غور کیا جائے تو بجائے فائدہ کے ہمیں اس سے نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ ہم اس امر کے متعلق تو خود فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں جو ہماری ذات سے تعلق رکھتا ہو لیکن جو امردو سروں کی ذات سے تعلق رکھتا ہو۔اس پر ہماری نیتوں کا کچھ اثر نہیں ہو سکتا۔مسلمانوں کو تین قسم کے مقدمات پیش آسکتے ہیں۔ایک وہ مقدمات جو باہم مسلمانوں میں ہوں۔خواہ مالی حقوق کے متعلق ہوں یا فوجداری ہوں۔مگر قابل دست اندازی پولیس نہ ہوں۔ایسے مقدمات و قطع نظر اس فیصلہ کے مسلمانوں میں آپس میں ہی طے ہونے چاہئیں۔اگر ہم اپنے جھگڑے خود فیصلہ کرنے کی قابلیت نہیں رکھتے تو ہم در حقیقت اس نظام اسلامی سے بے بہرہ ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں قائم فرمایا تھا۔ہماری جماعت بڑی سختی سے اس امر کا لحاظ رکھتی ہے کہ تمام مالی مقدمات اور تمام فوجداری اختلافات جن کو برطانوی عدالت میں لے جانے کے نام قانوناً پابند نہیں اپنی جماعت کے قاضی ہی طے کریں۔اس قسم کے ایک واقعہ کے متعلق پچھلے دنوں اخبارات میں ایک مضمون بطور اعتراض شائع ہوا تھا۔مگر میرے نزدیک یہ امر قابل اعتراض نہیں بلکہ قومی اتحاد کے لئے ضروری ہے اور قومی دولت اس سے محفوظ رہ جاتی ہے۔دوسری قسم کے مقدمات وہ ہو سکتے ہیں جو گو دو مسلمان فریق میں ہوں لیکن قابل دست اندازی پولیس ہوں اور قابل راضی نامہ ہوں۔اور تیسری قسم کے مقدمات وہ ہیں جو مسلمانوں اور