انوارالعلوم (جلد 9) — Page 516
۵۱۶ کہا جاتا ہے کیا خدا کی بھی زبان ہے۔اس کے بھی حلق، دانت اور VOCAL CORDS وغیرہ ہیں۔جن کی مدد سے آواز پیدا ہوتی ہے۔مگر ہم یہ نہیں کہتے کہ خدا کی زبان اور ہونٹ وغیرہ سے آواز نکال کر ملہم کے کان میں سنائی دیتی ہے۔ہم تو کہتے ہیں۔الہام کے ذریعے کان میں آواز پیدا کی جاتی ہے نہ یہ کہ خدا کے ہونٹ اس کو بتاتے ہیں۔الفاظ تو اسی ہوا کی VIBRATIONS لہروں کے ذریعے کان میں جاتے ہیں اور اعصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتے ہیں۔مگر فرق یہ ہے کہ یہ الفاظ فکر کا نتیجہ نہیں ہوتے، قلبی خیالات نہیں ہوتے بلکہ بنے بنائے الفاظ خدا کی طرف سے کان میں ڈالے جاتے ہیں۔الہام پانے والوں اور مجانین کی حالت میں فرق یہ قاعدہ ہے کہ جو خیال باطل ہو یا وہم کا نتیجہ ہو، اس کی تصدیق صرف ایک حِسّ کرتی ہے۔مثلاًوہ نظارہ جو قلبی خیالات کا نتیجہ ہویا وہمی ہو اس کی تائید صرف آنکھ کرتی ہے۔مگر کان اور ہاتھ اس کو جھٹلاتے ہیں۔مثلاً اندھیرے میں کسی کو کوئی آدمی کمرے کے اندر کھڑا نظر آۓ تو اگر یہ نظارہ وہم کا نتیجہ ہو گا تو اس شخص کو ہاتھ سے چھونے سے کچھ معلوم نہ ہو گا۔قرآن کریم میں آتا ہے۔و كلم الله موسی تکلیما۔۲۷؎ اس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا نے زبان سے کلام کی بلکہ یہ لفظ زور دینے کے لئے اور شان کے اظہار کے لئے ہے۔یعنی وہ ایسا کلام تھا کہ اس کی تصدیق نہ صرف کان بلکہ دیگر حواس بھی کرتے تھے۔پس الہام کی تصدیق کئی حواس کرتے ہیں اور نہ صرف ملہم کے حواس بلکہ دوسرے لوگ بھی اس کو محسوس کرتے ہیں۔دوسرا فرق الہام اور وہم میں یہ ہے کہ الہام پانے والوں کو دوسروں پر عقلی برتری حاصل ہوتی ہے۔مگر وہم تو بد تر عقل والوں کو ہوا کرتا ہے۔حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق تمام عرب نے گواہی دی کہ ہم سب سے بڑھ کر صاحب عقل و فراست ہے۔چنانچہ کعبہ کی تعمیرکے وقت جب سنگ اسود کو نصب کرنے پر مکہ والوں میں جھگڑا ہوا کہ کس قبیلہ کا سردار اس کو اٹھاکر نصب کرے۔اور قریب تھا کہ کشت و خون سے زمین سرخ ہو جائے۔اس وقت کسی نے کہا اس نوجوان (محمد رسول اللہ) سے پوچھو۔تو حضور نے جس عقلمندی اور موقع شناسی سے اس وقت کام کیا وہ تاریخ اسلام کے جاننے والوں پر خوب روشن ہے۔۲۸؎ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم) کا دماغ نہایت اعلیٰ تھا۔وہم تو ایک اندرونی بات ہے اور جنون کی علامت ہے جو ایسے عقیل کے