انوارالعلوم (جلد 9) — Page 503
۵۰۳ کہ ہر چیز مفید ہے۔پس اسلام سائنس کی طرف توجہ دلاتا ہے اور سائنس کی تحقیقاتوں سے اسلام کی تائید ہوتی ہے۔تصادم کی ایک اور وجہ مذہب اور سائنس کے باہمی تصادم کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بعض لوگ اپنے وہم کو مذہب قرار دیتے ہیں جو لازماً سائنس کے مسلّمہ اصول سے ٹکراتا ہے مگر یہ ان لوگوں کی غلطی ہے۔گویا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا وہم درست ہے اور تجارب اور مشاہدات غلط ہیں۔اِدھر سائنس والے بھی بعض دفعہ غلطی کرتے ہیں کہ محض تھیوری کا نام سائنس رکھ لیتے ہیں اور وہ مذہب کے ساتھ ٹکراتی ہے۔مگر تھیوری قابل قبول نہیں کیونکہ خدا تعالی کے قول کے مقابلہ میں ایک انسان کی ذہنی اختراع کچھ چیز نہیں۔جس طرح بعض مذاہب جھوٹے ہو سکتے ہیں مثلا ًوہ جو دل کے خیال، وہم اور تخیل کو خدا کا کلام سمجھ لیں اسی طرح تھیوری بھی جھوٹی ہو سکتی ہے۔ہم دیکھتے ہیں کہ کئی تھیوریاں آئے دن بدلتی رہتی ہیں۔جوں جوں علوم میں ترقی ہوتی ہے پرانی تھیوریوں کو باطل کرتی جاتی ہے۔مثلاً EINSTEn کی نئی تھیوری نے علم ایس ٹرانومی (ASTRONOMY) کی بہت سی ثقہ باتوں کو غلط ثابت کر دیا ہے۔اسی طرح قدرت کے کرشموں کے مطالعہ سے جو غلط نتائج نکالے جائیں اور وہ مذہب سے ٹکرائیں تو بعد میں اصل حقیقت کے منکشف ہو جانے پر پشیمانی ہوتی ہے۔پس آئندہ کے لئے فیصلہ کر لو کہ خدا تعالی کے الفاظ اور اپنے تجربہ پر علوم کی بنیاد رکھیں گے اور اس طرح پر تصادم نہیں ہو گا اور اگر ٹکراؤ ہو تو سمجھ لو کہ یا تو خدا کا کلام سمجھنے میں غلطی ہوئی ہے یا پھر تجربہ میں غلطی کی گئی۔مخالفت کی تین وجوہات دو باتوں میں مخالفت تین طرح کی ہو سکتی ہے۔(۱)اگر ایک کو مانا جائے تو دوسری کا لازماً رد ہو۔(۲) ایک دوسری کی طرف توجہ کرنے سے روکے۔مثلاً مذ ہب یہ کہے کہ سائنس پر غور نہ کرو اور سائنس کہے مذہب کی طرف توجہ نہ کرو۔(۳) تفصیلی تعلیم میں اختلاف ہو۔یعنی اصولی باتوں میں نقص نہ ہو بلکہ جزئیات میں اختلاف ہو۔اسلامی تعلیم میں ان تینوں میں سے ایک غم کا اختلاف بھی نہیں پایا جاتا۔کیونکہ (1) اسلام خدا کا قول ہے اور سائنس اس کا فعل ہے۔پس نقیض نہ ہوئے۔(۲) دونوں نے ایک دوسرے کا مطالعہ کرنے سے منع بھی نہیں کیا۔(۳) جزئیات میں بھی اختلاف کوئی نہیں۔دونوں آپس میں متحد اور متفق ہیں۔(۴) قرآن تو حقیقی سائنس کو منکشف کرتا ہے۔بعض