انوارالعلوم (جلد 9) — Page 17
۱۷ واسطے ایک جوش تھا اور میرا دل پگھلا ہوا تھا۔اس درد اور غم میں میں تمہارے لئے دعاؤں میں لگا ہوا تھا لیکن تمہاری حالت نے میرے دل میں قبض پیدا کردی ہے۔میرے اندر اس درجہ گداز کی حالت تھی کہ ممکن تھا اور میں چاہتا تھا کہ کچھ دن اسی گداز میں گذر جائے تاکہ میں تمہارے لئے ایسی دعائیں کرتا جو عرش پر پہنچتیں اور اسے ہلا دیتیں۔آنحضرت ﷺ کو لیلۃ القدر کا علم دیا گیا تھا اور آپ چاہتے تھے کہ اس سے لوگوں کو واقف کریں گے مگر دو آدمیوں کی لڑائی نے اس علم کو اٹھالیا۔لیکن بعض نادانوں کی حالت نے میرے دل میں قبض پیدا کر کے جماعت کو بھی ان دعاؤں سے محروم کر دیا ہے۔مجھے آتی دفعہ ماسٹر عبد الرحمن ٰنے ایک رقعہ دیا ہے اور میں اس کو پڑھ کر خوش ہو گیا کہ انہوں نے میرے خطبہ کے مفہوم کو سمجھ لیا ہے۔(الفضل ۳۔جنوری ۱۹۲۵ء) التوبة : ۱۲۸ ۲ طبقات ابن سعد (عربی) جلد ۳ صفہ زیر عنوان حمزه ابن عبدالمطلب مطبوعہ بیروت ۱۹۸۵ء ۳ بخاری کتاب المناقب باب تزويج النبي صلى الله عليه وسلم خديجة وفضلها رضي الله عنها م بخاری کتاب الجنائز باب البكاء على الميت۔بخاری کتاب المرضى باب قول المريض ائی واجع وازاساة اوشتد بي الوجع۔- و بخاری کتاب الجنائز باب ماینهي عن النوح والبكاء والزجر عن ذلک ، بخاری کتاب المغازی باب قتل حمزة ۸ شمائل ترمذی باب ماجاء في بكاء رسول الله صلى الله عليه وسلم مطبوعہ فاروقی کتب خانه بیرون بوہڑ گیٹ ملتان و بخاری کتاب التفسير تفسير سورة الأحقاف باب فلماراوہ عارضا مستقبلا وديتهم۔۱۰ بخاری کتاب فضائل الصحابة باب سد والابواب الاباب ابی بکر