انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 450

۴۵۰ نہ تھی اس لئے ان کی صلح کااثر عوام پر نہیں ہو سکتا تھا مگر باوجود اس کے یہ سمجھ لیا جاتا تھا کہ صلح ہو گئی۔لیڈر اگر صحیح اقرار بھی کریں گے لوگ آئندہ نہیں لڑیں گے تو بھی فساد نہیں رک سکتے کیونکہ لڑنے والے ان کی صلح کو قبول نہیں کر سکتے۔دوسرا طریق یہ تھا کہ کچھ پبلک کو بلا کر کہہ دیا جاتا کہ تم آپس میں بھائی بھائی ہو تمہیں لڑنا نہیں چاہئے۔اس پر بعض جگہ اعلان تو ہو گیا کہ ہندو مسلمان نہیں لڑیں گے لیکن نتیجہ اس کا بھی کچھ نہ نکلا کیونکہ محض اعلانوں سے کبھی صلح نہیں ہوئی جب تک لڑائی کے اسباب کو دور نہ کیا جائے۔سوال یہ ہے کہ لوگ بِلا وجہ لڑا کرتے تھے یا ان کی لڑائی کی کوئی وجہ ہوتی تھی اور کیا ایسے اعلان لڑائی کی اصل وجہ دریافت کر کے کئے جاتے تھے؟ یا یونہی۔واقعات بتائیں گے کہ لوگ بِلاوجہ نہیں لڑا کرتے اور لیڈروں کے اعلان بغیر اس لڑائی کی وجہ معلوم کئے ہوتے تھے۔جس طرح ہر انسان میں غصے کا مادہ ہوتا ہے مگر کسی باہوش انسان کو بِلاوجہ کسی پر غصہ نہیں آتا اور نہ بِلاوجہ کسی سے لڑتا ہے کسی وجہ سے ہی اسے غصہ آتا ہے۔اسی طرح قومیں بھی بِلاوجہ نہیں لڑا کرتیں اور ملکوں کی لڑائیاں بھی کسی وجہ سے ہی ہوا کرتی ہیں۔جب ہر لڑائی کے لئے کوئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے اور لڑائی بند تب ہی ہو سکتی ہے جب اس کی وجہ مٹ جائے تو ہندو مسلمانوں کی لڑائی کے متعلق کیسے امید کی جاسکتی تھی کہ صرف لیڈروں کے منہ سے کہہ دینے سے بند ہو جائے گی حالا نکہ نہ اس کی وجہ دریافت کی گئی اور نہ اس وجہ کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔یہ قاعدے کی بات ہے کہ جوش میں انسان ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔جب ہندو مسلمانوں میں صلح کا جوش تھا اس وقت اس جوش سے شاید اگر ائمی نہیں تو ایک لمبے عرصہ کے لئے صلح ہو جانی ممکن تھی بشرطیکہ لیڈر پیک کے اس جوش سے پورا اور صحیح رنگ میں فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے لیکن انہوں نے فسادات کی وجہ تو دریافت نہ کی جس کے دور کرنے سے فساد دور ہو سکتے تھے اور جو کچھ کیا وہ یہ تھا کہ کچھ لوگوں کو بلا کر کہہ دیا صلح کر لو لڑو نہیں اور لوگوں نے بھی جلسوں کے موقعوں پر کہہ دیا ہم نہیں لڑیں گے اور تماشے کے طور پر عوام الناس نے کہنا شروع کر دیا آج سے ہم بھائی بھائی ہیں۔ہمیں آپس میں ایک دوسرے کو گلے لگا لینا چاہیے۔آج سے ہماری صلح ہو گئی۔لڑائی کی وجہ معلوم کئے بغیر صلح کا نتیجہ اسی بریڈلا ہالمیں آج سے چار پانچ سال پہلے میں نے ایک تقریر کی تھی اس میں بھی ہندو مسلمانوں کی صلح کے متعلق اظہار خیالات کیا تھا۔میرے نزدیک اس صلح کی مثال