انوارالعلوم (جلد 9) — Page 451
۴۵۱ ایسی تھی ہے دو زمیندار جو آپس میں بھائی ہوں اور جن میں جائیداد تقسیم کر دی گئی ہو وہ کھیت کے کی منڈیر کے لئے لڑ پڑیں۔ایک کہے یہ حصہ میرا ہے دوسرا کہے میرا۔اس موقع پر ان کا باپ اگر انہیں کہے خبردار مت لڑو نقصان اٹھاؤ گے تو کوئی تعجب نہیں کہ وہ باپ کی نصیحت سن کر رو بھی پڑیں اور بغیر اس کے کہ وہ باپ سے پوچھیں کہ ہم صلح کن اصول پر کریں ہم آپس میں گلے مل جائیں۔لیکن گو وه بظاہر صلح کر لیں گے لیکن ان میں سے پرایک کے دل میں یہ خیال کرے گا کہ ہمارے باپ کا مطلب یہ تھا کہ میرا دوسرا بھائی مجھ پر ظلم نہ کرے اور اب امید ہے کہ اس صلح کے بعد وہ میرا حق مجھے دے دے گا اور وہ دل میں خوش خوش چلا جائے گا کہ اب تنازعہ زمین مجھے مل جائے گی۔اس کے بعد جب ان دونوں میں سے کوئی متنازعہ فیہاحصہ زمین میں ہل چلائے گا تو دوسرا لٹھ لے کر کھڑا ہو جائے گا اور کہے گا عجیب احمق ہے کہ ابھی باپ نے سمجھایا اور اس کے سامنے فیصلہ کر کے آیا ہے اور ابھی اس کے خلاف کر رہا ہے۔اس طرح پہلے سے بھی زیادہ زور سے لڑائی شروع ہو جائے گی۔ایسی صلح در حقیقت نئے فساد کی وجہ بن جاتی ہے اور اس سے امن قائم نہیں ہو سکتا۔چونکہ ان مجالس میں جو لیڈروں کی طرف سے قائم کی جاتی ہیں یہ فیصلہ نہیں کیا گیا تھا کہ ہندو مسلمانوں کے مطالبات کیا ہیں، جھگڑا کن باتوں پر ہے اور ان کے متعلق صفائی کس طرح ہو سکتی ہے اس لئے نتیجہ یہ ہوا کہ جب لوگ جلسوں کو چھوڑ کر گھروں میں گئے تو ہندووں کے جو مطالے مسلمانوں سے تھے ان کے متعلق ہندووں نے سمجھ لیا اب وہ پورے ہو گئے اور مسلمانوں کے جو مطالبات ہندووں سے تھے ان کے متعلق مسلمانوں نے سمجھ لیا چونکہ لیڈروں نے اب صلح کرا دی ہے اس لئے وہ پورے ہو جائیں گے۔مگر جب ہندوؤں نے اپنے حقوق کا مطالبہ مسلمانوں سے کیا اور مسلمانوں نے اپنے حقوق کا مطالبہ ہندوؤں سے کیا تو دونوں کا غصہ اور بھی بڑھ گیا کیونکہ ہر ایک صلح کا مفہوم یہ خیال کرتا تھا کہ اب دوسرا اپنا مطالبہ چھوڑ دے گا۔اور نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے سے بھی زیادہ فساد پیدا ہو گیا۔ہندو مسلمان دھوکا کھا گئے حقیقت یہ ہے کہ لیڈروں کے صلح کے اعلانات سے پبلک اس دھوکا مٰن آگئی کہ صلح ہوگئی حالا نکہ یہ کوئی صلح نہ تھی بلکہ یہ تو ایک قسم کی لڑائی تھی۔اس طرح جب بھی کیاجائے گا اس سے پہلے کی نسبت زیاده فساد ہو گا کیونکہ یوں اپنے حق کے لئے لڑنیوالوں کو اگر کسی وقت سمجھایا جائے تو کچھ نہ کچھ سمجھ سکتے ہیں لیکن جہاں یہ سمجھ لیا گیا ہو کہ ہمیں صلح کے پردہ میں دھوکا دیا گیاوہاں لڑائی کا کم ہونا مشکل ہوتا