انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 5 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 5

۵ دوسری وجہ بیماری کی زیادتی کی یہ تھی کہ جب میں باہر آتا تھا تو لوگ میرے پاس درخواستیں لاتے تھے کہ ہمیں فلاں تکلیف ہے اور ہم اس انتظار میں تھے کہ حضور تشریف لاویں تو حضور کے پاس عرض کریں۔یا ہمیں فلاں امر کی ضرورت تھی اور افسروں نے حضور کی واپسی تک اسے ملتوی رکھا ہوا تھا اور ادھر میری یہ حالت ہے کہ مجھے جب معلوم ہو کہ فلاں کو یہ تکلیف ہے اور میں اس تکلیف کو دور نہیں کر سکتا یا اس کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا تو مجھے سخت بے چینی ہوتی ہے۔غالباً میں نے میاں بشیر احمد صاحب سے ذکر کیا تھا کہ مجھ پر ایک جنون کی کی حالت طاری ہو جاتی ہے جب مجھ پر حاجت مند لوگوں کا ہجوم جمع ہوتا ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ میں فلاں شخص کی ضرورت کو پورا نہیں کر سکتا۔ڈاکٹر میر احمد اسماعیل صاحب اور میری والدہ صاحبہ بھی میری اسی حالت سے واقف ہیں کیونکہ ان کے پاس میں نے ذکر کیا تھا کہ اودھر مجھے دورہ ہوتا ہے اور ادھر میں ان کی تکلیف پڑھتا ہوں تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا ایسا نہ ہو کہ میں جلسہ سے پلے زیادہ بیمار ہو جاؤں۔اس وجہ سے میں ان دنوں میں جب تک کہ خداتعالی کوئی سامان نہ کردے لوگوں سے الگ رہوں گا۔یہ واقعات تھے جن کی وجہ سے میں باہر کم آتا اور لوگوں سے الگ رہتا تھا۔بلکہ یہاں تک حالت رہی ہے کہ اسی وجہ سے میں مرحومہ کی ایسی تیمار داری بھی نہیں کر سکا جیسا کہ میرا دل تیمارداری کرنے کو چاہتا تھا حتی کہ انہوں نے اپنی مرض الموت میں مجھ سے کہابھی کہ جب آپ آتے ہیں تو میری بیماری میں کمی معلوم ہونے لگتی ہے اس کا مطلب یہی تھا کہ تم کم آتے ہو۔باقی رہا دوسرا سوال میں اس کو کئی حصوں میں تقسیم کرتا ہوں۔پہلی بات غم کے متعلق ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مجھے غم ہے اور بہت غم ہے۔اس کا اثر میرے چہرے پر بھی ظاہر تھا جواب نہیں۔اس کی وجہ یہ نہیں کہ اب غم نہیں بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ میں ضبط کر سکتا ہوں اور مجھے اپنے جذبات پر قابو ہے اور بہت قابو ہے اور میں ایسی حالت میں ہنس بھی سکتا ہوں۔اور کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ایک شخص میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے گھر لڑکا پیدا ہوا ہے اور میں اس وقت غم کی حالت میں ہو تا ہوں۔گھر میں میرا بچہ بیمار ہوتا ہے یا او ر قومی غم ہوتے ہیں لیکن معاًمیں اپنے چہرہ کو ہنسی والا بنا تا ہوں اور کہتا ہوں کہ یہ میرا فرض ہے کہ اس شخص کی خوشی میں شامل ہوں۔لیکن تم ایسا نہیں کر سکتے بلکہ تم میں سے کئی لڑ