انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 322

۳۲۲ پوری ہو جاتی ہے مسلمانوں میں جب دیگر اقوام سے میل جول کے نتیجے میں ان کے خیال اور وساوس داخل ہو گئے تو یہ خیال بھی یہود سے داخل ہو گیا اور صرف اسلای الفاظ کے پردہ میں یہ یہودی عقیده عام مسلمانوں میں راسخ ہو گیا۔ورنہ یہ خیال کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی ایسا نام ہے جو اس کے بندے کے لئے مفید ہے اس کے انبیاء جو ہر ایک چیز کو جو انسانوں کے لئے مفید ہو ظاہر کر دیتے ہیں۔اس نام کو چھپائے رکھتے ہیں۔خدا اور اس کے رسولوں کی ہتک ہے۔اسم اعظم در حقیقت اللہ کا لفظ ہے جو اسم ذات ہے اور تمام اسماء اس کے ماتحت ہیں اور اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ہاں مختلف اشخاص کو ان کے مخصوص حالات کے مطابق بعض خاص اسماء سے تعلق ہوتا ہے اس وقت ان ناموں کو یاد کر کے دعا کرنا ان کے لئے بہت مفید ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولله الأسماء الحسنى فادعوه بها۵۸؎ اس وقت موقع کے لحاظ سے ان اشخاص کے لئے وہی اسماء جن کی بلانے سے ان کی حاجت روائی ہوتی ہے ان کے لئے اسم اعظم بن جاتے ہیں خود اس حدیث کے ساتھ جو اور حدیث اسم اعظم کے متعلق مذکور ہیں انہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ اسم اعظم سے مراد کوئی خاص پوشیدہ نام نہیں ہے چنانچہ اس حدیث کے ساتھ عبداللہ بن بریدہ کی روایت درج ہے کہ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی شخص کو کہتے سنا لله اللھم انی اسئلک بانک انت اللہ الاحد الصمدالذي لم يلد ولم يولد ولم يكن له كفوا احد اس پر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمايا لقد سال اللہ باسمہ الأعظم الزی اذا سئل بہ اعطے واذا دعی بہ اجاب۔۵۹؎ اس نے اللہ تعالیٰ کو اس کے اسم اعظم سے پکارا ہے جس کے ذریعہ سے پکارنے پر وہ سوال کو قبول کرنا اور پکار کا جواب دیتا ہے۔پھر ساتھ ہی انس بن مالک کی روایت درج ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ کہتے سنا کہ اللھم اني أسئلك بأن لك الحمد لا إله الا انت وحدك لا شریک لک المنان بديع السموت والأرض والجلال والاكرام تو فرمایا کہ لقد سال اللہ باسمہ الأعظم الزی اذا سئل بہ اعطے واذا دعی بہ اجاب ۶۰؎ یعنیاس نے خدا تعالی کو اس کے اس اسم اعظم سے پکارا ہے کہ اگر اس کے ذریعہ سے اس سے سوال کیا جائے تو وہ دیتا ہے اور اگر اسے پکارا جائے تو وہ جواب دیتا ہے۔ان احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ (1) اسم اعظم کی ایک اسم کا نام نہیں بلکہ ان اسماء کانام ہے جن سے کسی خاص وقت میں دعا مانگنی زیادہ مفید ہوتی ہے کیونکہ مختلف لوگوں نے مختلف