انوارالعلوم (جلد 9) — Page 323
۳۲۳ حق الیقین دعاؤں اور ناموں سے اللہ تعالیٰ کو مخاطب کیا ہے اور ان کانام رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسم اعظم رکھا ہے (۲) یہ اسم اعظم کوئی پوشیدہ امر نہیں ورنہ رسول کریم لوگوں کو یہ کیوں بتاتے کہ ان لوگوں نے اسم اعظم کو یاد کر کے دعا مانگی ہے۔آپ کو تو چاہئے تھا کہ اگر اتفاقاً کسی کے منہ سے اسم اعظم نکل گیا تھا تو چپ کر رہتے۔(۳) جب کہ آپ علی الاعلان اسم اعظم کی تلقین کرتے تھے تو ممکن نہ تھا کہ حضرت عائشہ سے چھپاتے کیونکہ وہ دوسروں سے سن سکتی تھیں۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں بتا چکا ہوں بعض لوگوں کی خاص حالت کے مطابق بعض اسماء ہوتے ہیں اور وہی ان کے لئے اسم اعظم ہوتے ہیں۔چنانچہ اس حدیث میں جس پر صاحب ہفوات نے اعتراض کیا ہے اسی قسم کے اسم کا ذکر ہے اور اس میں یہ جو بیان ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ سے ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وہ نام بتایا ہے جس کے ذریعہ سے اگر اس سے دعا کی جائے تو وہ قبول کرتا ہے۔اس سے مراد آپ کی اسی اسم سے تھی۔جو آپ کے ذاتی امور کے ساتھ مناسبت رکھتا تھا یہ اسم یا بطور الہام یا بطور القاءہی معلوم کرایا جاتا ہے۔حضرت عائشہ نے اس سے فائدہ اٹھا کر کسی ایسے امر کے متعلق دعا کرنی چاہی ہے جو ان میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان مشترک تھا۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس وقت معلوم ہو چکا تھا کہ وہ امراللہ تعالیٰ کی مشیت کے خلاف ہے آپ نے حضرت عائشہ کو یہ نام نہیں بتایا کہ کہیں جوش میں اس امر کے متعلق وہ دعا نہ کر بیٹھیں۔لیکن حضرت عائشہ نے اپنے عمل سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت کا ثبوت دے دیا۔اور اسکی جامع مانع دعا کی جو اسم اعظم پر مشتمل تھی اور خدا تعالی سے کوئی دنیاوی چیز نہیں مانگی بلکہ اس کی مغفرت اور رحم ہی مانگا۔چنانچہ اس حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عائشہ کی دعابر ہنس پڑے اور فرمایا کہ اسم اعظم تیری دعا میں شامل تھا۔پس جب کہ حضرت عائشہ کی زبان پر بسبب ان کی کامل اتباع کے اللہ تعالیٰ نے خود بطور القاء کے وہ اسم جاری کردیا جو ان کے مناسب حال تھا۔تو کیسانادان ہے وہ شخص جو حضرت عائشہ کے درجہ پر اس حدیث کے ذریعہ سے اعتراض کرتاہے یہ حدیث تو آپ کے بلند درجہ اور اعلی ٰمقام پر دلالت کرتی ہے اور آپ کو جو محبت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تھی اس پر شاہد ہے نہ کہ اس سے آپ کی شان کے خلاف کوئی استدلال ہوتا ہے۔اس کے بعد آپ نے حضرت عائشہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کی نفی کے