انوارالعلوم (جلد 9) — Page 301
۳۰۱ حق الیقین میں یہ لفظ استعمال ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے إِنَّكَ لَا تَهْدِي مَنْ أَحْبَبْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ (القصص :57) ترجمہ: تو ہر اس شخص کو ہدایت نہیں دے سکتا جس کی ہدایت کا تو خواہاں ہے لیکن اللہ جسے پسند کرتا ہے ہدایت دیتا ہے اور خدا ہی جانتا ہے کہ کون لوگ ہدایت کے مستحق ہیں۔اس حدیث سے ثابت ہے کہ رسول کریم ﷺ کفار سے بھی محبت رکھتے تھے پس اگر مصنف ہفوات کے معنوں کے مطابق یوں سمجھا جائے کہ محبت کے معنے عشق کے اور ماسوا کو بھلا دینے کے ہوتے ہیں تو اس آیت کےنعوذ باللہ یہ معنے بن جائیں گے کہ رسول کریم ﷺ کو کفار کی محبت اس قدر بڑھ گئی تھی کہ آپ معرفت الٰہی اور اجرائے احکام خدا میں زیادہ خوش نہ ہوتے تھے مگر ایسا خیال کفر ہے آپ کا وجود تو اس آیت کا مصداق تھا۔قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الأَنعام: 163)پس اس آیت میں محبت کے معنی خیر خواہی کے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تُو تو سب دنیا کا ہی خیر خواہ ہے اور چاہتا ہے کہ سب کو ہدایت مل جائے مگر تیری یہ خواہش پوری نہیں ہو سکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ انہی لوگوں کے لئے ہدایت کے سامان جمع کرتا ہے جو خود ہدایت کے جویاں ہوتے ہیں اور ہدایت کا مقابلہ نہیں کرتے۔کسی چیز کو نسبتی طور پر پسند کرنے کے معنوں میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے گو وہ اپنی ذات میں اچھی نہ ہو۔چنانچہ حضرت یوسف کی نسبت آتا ہے قَالَ رَبِّ السِّجْنُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِمَّا يَدْعُونَنِي إِلَيْهِ (يوسف: 34)ترجمہ: یوسف علیہ السلام نے کہا۔اے میرے رب! قید خانہ مجھے اس بات سے جس کی طرف یہ عورتیں مجھے بلاتی ہیں زیادہ پسند ہے۔اس جگہ محبت کا لفظ ایک ایسی بات کی نسبت استعمال ہوا ہے جو اپنی ذات میں بری ہے لیکن نسبتی ترجیح کے سبب سے اس لفظ کو استعمال کیا گیا ہے۔طبعی محبت اور عشق کے متعلق میں یہ پہلے آیات لکھ آیا ہوں اس لئے اس جگہ اس کی تکرار کی ضرورت نہیں۔احادیث میں بھی یہ لفظ کثرت سے ان معنوں میں استعمال ہوا ہے چنانچہ حُبّ کے معنوں کی تشریح میں لسان العرب نے دو حدیثیں لکھی ہیں جن سے حب کے معنوں کی خوب تشریح ہو جاتی ہے ایک حدیث تو یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے احد پہاڑ کی نسبت فرمایا ھذا جبل یحبنا و نحبہ ۲۸؎ وہ ایک ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے