انوارالعلوم (جلد 9) — Page 300
۳۰۰ حق الیقین تیسر اپہلو مصنف ہفوات کے سوال پر غور کرنے کا یہ ہے کہ اس حدیث کے اصل معنوں پر غور کیا جائے کیونکہ بہت دفعہ انسان ایک بات کے معنے غلط کر کے اعتراض کر دیتا ہے لیکن صحیح معنے معلوم ہوں تو اعتراض دور ہو جاتا ہے۔میرے نزدیک اسی حدیث کے صحیح معنے معلوم نہ ہونے کے سبب سے ہی مصنف ہفوات کو اعتراض پیدا ہوا ہے بلکہ مصنف ہفوات سے ایک خطرناک غلطی یہ ہوئی ہے کہ انہوں نے یہ کوشش کی ہے کہ صحیح معنے معلوم نہ ہو سکیں اور حدیث کاایک ٹکڑا اس غرض سے محذوف کر دیا ہے۔گو اصل معنی اس حدیث کے جب میں بیان کروں گا تب معلوم ہوں گے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ حدیث کو پورا نقل کر دینے سے ہر شخص سمجھ لے گا کہ مصنف ہفوات نے دیانتداری سے کام نہیں لیا کیونکہ انہوں نے حدیث کا وہ حصہ جو اس اعتراض کو جو انہوں نے کیا ہے بالکل دور کر دیتاہے۔چھوڑ دیا ہے۔حدیث کے اصل الفاظ یہ ہیں حدثنا سلام ابو المنذر عن ثابت عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ حبب الی من الدنیا النساء و الطیب و جعل قرۃ عینی فی الصلٰوۃ ایک دوسری روایت میں ہے من دنیاکم۔ترجمہ : رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھے پسند کرائی گئ ہیں تمہاری دنیا میں سے عورتیں اور خوشبو اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک تو نماز ہی میں رکھی گئی ہے۔اس آخری فقرہ کی موجودگی میں کیا مصنف ہفوات کا اعتراض پڑ سکتا تھا کہ ‘‘رسول کی یہ شان ہے کہ وہ معرفت الٰہی اور ہدایت خلق اوراجرائے احکام میں زیادہ خوش ہو نہ کہ عورتوں اور لوازم خوشبو سے معاذ اللہ’’ صفحہ 4۔پس ان کا اس فقرہ کو چھوڑ دینا بتاتا ہے کہ ان کی نیت اعتراض پیدا کرنا تھی نہ کہ احقاق حق۔پیشتر اس کے کہ میں اصل معنی اس حدیث کے بیان کروں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ حب کے معنے عشق کے نہیں ہوتے جیسا کہ مصنف ہفوات نے سمجھے ہیں۔بلکہ یہ ایک وسیع معنوں کا لفظ ہے اور لغت میں اس کے یہ معنی لکھے ہیں۔الحب نقیض البغض و الحب الوداد والمحبۃ یعنی حب کا لفظ بغض کے خلاف معنی رکھتا ہے اور اس کے معنے وداد اور محبت کے ہوتے ہیں ان معنوں کو مدنظر رکھ کر حب کے معنے کسی کو پسند کرنے اس کو چاہنے اس کی خیر خواہی کرنے کے ہوتے ہیں۔یعنی عشق کے معنے نہیں بلکہ عام خیر خواہی اور پسندیدگی سے لے کر اعلیٰ سے اعلیٰ کشش اور اتصال کے معنی اس لفظ کے ہیں۔چنانچہ ان معنوں میں یہ لفظ قرآن کریم اور احادیث اور لغت عرب میں کثرت سے مستعمل ہے۔قرآن کریم میں خیر خواہی کے معنوں میں سورۃ قصص