انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 294 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 294

۲۹۴ دوسرے فریق کو اس کا فعل بُرا معلوم ہوا ہے اور ہونا چاہئے۔مصنّف ہفوات کو جو بغض ائمہ اسلام سے ہے وہ مندرجہ ذیل عبارت سے بخوبی ظاہر ہے وہ لکتے ہیں۔’’یہ امر ممکن تھا کہ ہم کتب عقائد و اصول حدیث ور جال سے بھی ایسی احادیث کو مجروح و مقدوح کر دیتے لیکن جب یہ مسلمات عقلی ہے کہ راوی کی ثقاہت متن حدیث کی صحت کو مستلزم نہیں اور نہ خلاف قرآن حدیث حُجّت ہے اور نہ وہ ہفوات درایت کی معیار پر کھری ہیں اس لئے اس بیکار طُول کو ترک کر دیا۔‘‘ یعنی گو خود ان اصول کے مطابق جو اہل اسلام نے مقرر کئے ہیں اور خود ان قواعد کے مطابق ائمہ حدیث نے تجویز کئے ہیں ایسی احادیث کی کمزوری ثابت ہو سکتی تھی مگر یہ ایک بیکار طول تھا اس لئے مصنف ہفوات نے اس کو ترک کر دیا مگر ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک بیکار طول تھا کہ اگر یہ ثابت ہو جاتا کہ خود ائمہ حدیث نے ایسے قواعد تجویز کئے ہیں جن سے صحیح اور کمزور حدیثوں میں فرق کیا جائے تو لوگ سمجھ جاتے کہ حدیثوں کو کلام الہٰی کی طرح مسلمان غلطی سے پاک نہیں مانتے۔اور اگر خود انہی آئمہ کے بنائے ہوئے قواعد کے مطابق بعض احادیث ضعیف ثابت ہو جائیں تو ان کے ذریعہ سے آئمہ حدیث کو گالیاں دینے کا موقع نہیں مل سکتا تھا پس بیکار طول سے بچنے کے لئے نہیں بلکہ اپنی سبّ و شتم کی عادت کو پورا کرنے کے لئے مصنّف ہفوات نے اس طریق کو اختیار کیا ہے اور یہ بات ان کے دلی تعصّب پر ایک شاہد ناطق ہے۔اس تمہیدی نوٹ کے بعد میں ایک ایک کر کے مصنّف صاحب ہفوات کے اعتراضات کے متعلق اپنی تحقیق بیان کرتا ہوں لیکن ایک دفعہ پھر کھول کر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ کتب احادیث کے مؤلّفوں کو نہ خوددعوی ٰہے کہ وہ غلطی سے پاک ہیں اور نہ کبھی مسلمانوں کو یہ دعویٰ ہوا ہے کہ ان میں کسی قسم کی غلطی نہیں ہوئی بلکہ ان کی نسبت یہی خیال علماء میں رائج چلا آیا ہے کہ وہ بعض خدام اسلام کی دیانتدارانہ اور ان تھک کوششوں کا خوبصورت اور دل آویز نتیجہ ہیں جس میں گو بعض کمیاں رہ گئی ہوں لیکن ان کے ذریعہ سے جو فائدہ دنیا کو پہنچا ہے یا پہنچتا ہے یا پہنچ سکتا ہے اس کی قیمت کا اندازہ لگانا ہمارے لئے مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ ہی ان لوگوں کی نیک خدمات کا بدلہ ان کو دے گا۔