انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 168 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 168

انوار العلوم جلد9 ۱۶۸ کے لئے ہو گئی۔پھر جو کچھ میں جان بھی شامل ہے۔یہ بھی اس کی نہیں پھر جو کچھ میں بیوی بچے ہیں یہ بھی اس کے نہیں۔کوئی عزّت اور عہدہ ہے یہ بھی اس کا نہیں۔یہ اقرار کرنے کے بعد اگر کوئی شخص چندہ خاص کے وقت کہے کہ یہ بہت بڑا بوجھ ہے تو وہ بتائے بیعت کرتے وقت اس نے جو اقرار کیا تھا اس کا کیا مطلب تھا۔یا تو یہ مانو کہ اس کا یہ مطلب تھا کہ بیعت کرنے یعنی اپنا سب کچھ بیچ دینے سے مراد سارا جسم مراد نہ تھا۔بلکہ ایک ٹانگ یا ایک ہاتھ مراد تھا۔یا اس سے مراد سارا مال نہ تھا بلکہ اتنا اتنا مال تھا تو اس کی رعایت رکھ لی جائے لیکن اگریہ اقرار تھا کہ مَیں اپنا سارا مال، جان، بیوی، بچے، عہدے سب تجھے دیتا ہوں تو پھر وہ کس منہ سے کہہ سکتا ہے کہ بوجھ پڑ گیا۔بوجھ کے معنے تو یہ ہیں کہ گویا وہ کہتا ہے جس قدر دینے کا مَیں نے اقرار کیا تھا اس سے زیادہ دینا پڑ گیا۔یا جس چیز کے دینے کا وعدہ کیا تھا اس کے علاوہ اور بھی دینی پڑی۔حالانکہ اس کا اقرار یہ ہے کہ اس نے اپنا سب کچھ دے دیا۔ایسی حالت میں وہ بوجھ کس طرح کہہ سکتا ہے۔مَیں امید رکھتا ہوں کہ تمام دوست بیعت کے صحیح مفہوم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرینگے اور اسلام کے لئے جو کچھ خرچ کرنا پڑیگا کرینگے۔اور جب تک خرچ کرنا پڑیگا کرینگے۔کیونکہ جب تک اس بات میں خوشی محسوس نہ ہو کہ اسلام کے لئے سب کچھ قربان کر دیا جائیگا۔اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔مَیں دُعا کرتا ہوں کہ خدا کرے ایسا ہی ہو۔موجودہ مالی مشکلات کو دور کرنے کے لئے فی الحال یہ تجویز کی گئی ہے کہ چونکہ آمد کے بجٹ سے چالیس ہزار خرچ زیادہ ہے اس لئے چندہ خاص مستقل طور پر اس وقت تک مقرر کر دیا جائے جب تک یہ خرچ معمولی آمد سے پورا نہ ہو جائے۔یعنی ہماری جماعت کے لوگ اپنی ایک ماہ کی آمدکا ۴۰ فیصدی ہر سال عام چندہ کے علاوہ ادا کرتے رہیں۔مَیں اس سے نہیں ڈرتا کہ کچھ لوگ کمزور ہوں گے جو اس بوجھ کو اٹھانے کے لئے تیارنہ ہونگے ایسے کمزور دوسروں کے لئے طاقت کا باعث نہیں ہوا کرتے بلکہ کمزور کرنے کا موجب ہوتے ہیں۔وہ ترقی کرنے والوں کے راستہ میں پتھر ہوتے ہیں۔ان کا ہٹ جانا ہی مفید ہوتا ہے۔پس اگراس وجہ سے کچھ لوگ پیچھے ہٹیں گے تو ہٹ جائیں۔ان سے ہمیں کوئی نقصان نہ ہوگا بلکہ ہماری کمران کے بوجھ سے ہلکی ہو جائے گی۔پس اس وقت تک کہ معمولی آمد ہمارے اخراجات کو پورا کرنے کے لئے کافی ہو جائے سالانہ ایک ماہ کی آمد کا ۴۰ فیصدی چندہ خاص دینا ہوگا۔آپ لوگ یہ مت خیال کریں کہ یہ کام کس طرح چلیگا۔مَیں اِسوقت ان کو مخاطب نہیں کرتا جو قوی ہیں بلکہ ان کو مخاطب کرتا ہوں جو کمزور