انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 169

۱۶۹ ہیں اور جو ہمارے لئے بوجھ بنے ہوئے ہیں۔کہ یہ خدا تعالیٰ کا سلسلہ ہے۔مَیں نے یہ جگہ اُسوقت دیکھی تھی جب یہ ویران پڑی تھی۔اور وہ وقت بھی دیکھا ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سیر کے لئے نکلتے تو ایک آدھ آدمی آپ کے ساتھ ہوتا تھا۔اور وہ بھی آپ کا ملازم۔مگر آج خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نہیں بلکہ آپ کے غلام کی یہ حالت ہے کہ ہجوم میں سے چور کی طرح بھاگ کر نکلتا ہے تاکہ ہجوم میں گھر نہ جائے۔پس وہ خدا جو ایک سے بڑھا کر اتنے آدمی کر سکتا ہے اور جو لاکھوں روپیہ چندہ بھیج سکتا ہے وہ آئندہ بھی اِس سلسلہ کو بڑھائیگا۔اس وجہ سے مَیں ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں کر سکتا کہ یہ سلسلہ ترقی نہیں کریگا۔اور دُنیا کی کوئی روک اس کے رستہ میں حائل ہو جائیگی۔پس مَیں سوائے ان لوگوں کے جن کے دلوں پر مہر لگ چکی ہے کہتا ہوں خدا کے فضل سے یہ سلسلہ ان مشکلات سے نکلے گا اور انہی کے ہاتھ سے خدا تعالیٰ فتح و نصرت دیگا جو آج کمزور سمجھے جاتے ہیں اور جو واقعہ میںکمزور ہیں بھی۔دیکھو بہادر جرنیل وہی سمجھا جاتا ہے جو معمولی سپاہیوں کو لیتا اور ان کے ذریعہ عظیم الشان کام کرکے دکھاتا ہے۔مَیں اپنے لئے نہیں کہتا۔کیونکہ یہ سلسلہ خدا کا سلسلہ ہے اسلئے جس کے سپرد بھی خدا تعالیٰ اس سلسلہ کا انتظام کریگا اُسے ایسی قوّت اور طاقت بخشے گا کہ آج جو کمزور نظر آتے ہیں انہیں کے ہاتھوں فتح حاصل ہوگی۔انہیں اپنے نفسوں پر بد ظنی ہو تو ہو مگر مجھے حسن ظنی ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ وہ دن آئے گاجب میری حسن ظنی پوری ہو کر رہے گی۔پھر مَیں کہتا ہوں۔اگر مالی اخراجات ہماری جماعت کے لوگوں پر بوجھ ہیں تو دوست کیوں تبلیغ پر خاص زور نہیں دیتے۔مَیں نے انہیں کب روکا ہے کہ وہ جماعت کو نہ بڑھائیں۔وہ کیوں نہیں جلدی جماعت بڑھاتے تاکہ یہ بوجھ کم ہو جائے۔یہ ہمارا قصور نہیں بلکہ ان کا اپنا ہی قصور ہے۔آپ لوگ اگر جمات بڑھائیں تو مالی بوجھ آپ ہی کم ہو جائے۔گو اصل بات تو یہ ہے کہ مومن کا یہ بوجھ مرنے کے بعد ہی کم ہوتا ہے زندگی میں نہیں ہو سکتا۔اس موقعہ پر مَیں دوستوں کو یہ خوشخبری بھی سُنانا چاہتا ہوں کہ اِس سال دو اور ملکوں میں ہماری جماعتیں قائم ہو گئی ہیں۔جن میں ایک تو وہ ملک ہے جہاں عیسائیوں نے سو سال تک تبلیغ کی تھی تب جاکر انہیں کچھ کامیابی ہوئی تھی۔مگر ہمارے تبلیغ کو چند دن میں ۱۵-۱۶ سعید روحیں مل گئی ہیں۔وہ سماٹرا اور جاوا کا علاقہ ہے۔دوسرا وہ مُلک ہے جس کا نام لینے سے میرے خون میں جوش اور حرکت پیدا ہو جاتی ہے وہ ایران کا ملک ہے۔ایران وہ ملک ہے جس سے حضرت مسیح موعود