انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 117 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 117

**********|| ۱۱۷ کروڑوں ہندو اور مسلمان ہیں جو روزانہ آپس میں مل رہے ہیں نہ کہ بعض لیڈر۔لیڈر بعض دفعہ اشتعال کا موجب ہو جاتے ہیں مگر آتشی مادہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے قلوب میں موجود ہے۔پس لیڈروں کی صلح سے ہرگز امن قائم نہیں ہو سکتا۔ہندوستان نہ گاندھیوں، دیش بند ھوؤں، نہروؤں اور نہ برجیوں سے آباد ہے نہ علی برادر ز اور ابو الکلاموں سے۔پس نہ ان لوگوں کے سمجھوتے کا اثر عوام پر پڑ سکتا ہے نہ ان کے قلوب کا انعکاس لوگوں کے قلوب پر اور اگر ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں لاکھوں کروڑوں ہندو مسلمانوں کے حقوق تلف کرتے ہوئے اور مسلمان ہندوؤں کے حقوق تلف کرتے ہوئے نظر آئیں گے تو امن کو کون قائم رکھ سکے گا۔پس امن تب ہو سکتا ہے جبکہ اس حالتِ نفاق کو تسلیم کرایا جائے اور بجائے آنکھیں بند کر کے صلح کا اعلان کرنے کے جو چند ماہ سے زیادہ نہ ٹھہرے گا اور وہ بھی ظاہر میں کیونکہ عملا ًایک دوسرے کی گردن برابر کاٹی جاتی رہے گی۔چا ہئے کہ عارضی طور پر ایسے قوانین بنائے جاویں جن سے قلیل التعداد جماعتوں کے حقوق محفوظ ہو جاویں۔اور ہندو صاحبان اس امر کو تسلیم کر لیں کہ مسلمانوں اور دیگر قلیل التعداد جماعتوں کو ان کی آبادی کے تناسب کے مطابق نیابتی حقوق بھی ملیں اور سرکاری خدمات کا حصہ بھی۔اور نہ صرف اس معاہدہ پر عمل ہو بلکہ اس کو کانسٹی ٹیوشن میں داخل کیا جائے تا کثیر التعد اد جماعت اپنی کثرت رائے سے اس کو کسی وقت بھی قلیل التعداد جماعتوں کی مرضی کے خلاف بدل نہ سکے۔ہندوؤں کی چُھوت چھات اسی طرح چونکہ ہندو لوگ مسلمانوں سے خورد و نوش کے مسلمان نہیں خریدتے اور ہر سال کم سے کم بیس کروڑ روپیہ ہندوؤں کی جیبوں میں مسلمانوں کی طرف سے ایسا جاتا ہے جس کا واپس آنا ناممکن ہوتا ہے۔مسلمانوں کو اپنی تمدنی ضروریات کے لئے اور اپنی قومی زندگی کی حفاظت سے اس وقت تک کہ ہندو مسلمانوں کا یہ مقاطعہ چھوڑ دیں ہندووں سے خوردو نوش کی چیزیں ہرگز نہیں خریدنی چاہئیں اور چُھوت کے اس پہلو کو نہایت مضبوطی سے پکڑ لینا چاہئے اور ہندوؤں کو ان سے ناراض نہیں ہونا چاہئے کیونکہ اس طریق کے بغیر مسلمانوں کی مالی حالت بھی درست نہیں ہو سکتی اور وہ کبھی تمدنی غلامی سے آزاد نہیں ہو سکتے۔سیاستِ ہند کے متعلق مسلمانوں کارویہ آٹھواں سوال سیاست ہند کے متعلق مسلمانوں کا رویہ ہے۔اس کے متعلق مجھے یہ کہنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ کوئی عقلمند ایک منٹ کے لئے بھی خیال کرے گا