انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 560

۵۶۰ صاحب نے اپنے جواب کے آخر میں درج کر دیا اور مومنانہ غیرت کا تقاضا یہی تھاکہ وہ اپنا حقیقی جواب و ہی دیتے جو انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں دیا۔قانون کا حیرت انگیز نقص کل خبر آگئی ہے کہ اس مقدمہ کافیصلہ ہو گیا ہے۔اور سید دلاور شاہ صاحب بخاری ایڈیٹر مسلم آؤٹ لک کو چھ ماہ قید اور ساڑھے سات سو روپیہ جرمانہ ہوا ہے اور مولوی نور الحق صاحب پروپرائیٹر کو تین ماہ قید اور ایک ہزار روپیہ جرمانہ ہوا ہے۔ہمیں قانون کے اس نقص پر تو حیرت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فداء تقيئ و روحی کی عزت پر ناپاک سے ناپاک حملہ کرنے والوں پر تو مہینوں مقدمہ چلے اور آخر میں براءت ہو اور ہائی کورٹ کے متعلق ایک ایسی بات لکھنے پر جو صرف تاویلاً اس کی ہتک کہلا سکتی ہے آٹھ دن کے اندر اندر دو معزّز شخص جیل خانہ میں بھیج دیئے جائیں۔بہ بیں تفاوت رو از کُجاست تابہ کجا۔قید ہونے والوں کی بہادری ہمارے بھائی آج جیل خانہ میں ہیں لیکن اپنے نفس کے لئے نہیں ، اپنی عزت کے لئے نہیں، کسی دنیوی غرض کے لئے نہیں، اس وجہ سے نہیں کہ وہ حکومت کو کمزور کرنا چاہتے تھے نہ اس لئے کہ و ہ کسی کے حق کو دبانا چاہتے تھے بلکہ صرف اس لئے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عزت کے لئے غیرت کا اظہار کیا۔ان کی یہ بہادرانہ رَوش ہمیشہ کے لئے یادگار رہے گی کہ دونوں نے سارا بوجھ اپنے ہی سر پر اُٹھانے کی کوشش کی ہے اور دوسرے کی براءت کی کوشش کی ہے۔اس مصیبت کی ان میں سے یہ ایک ایسی خوشبو اُٹھی ہے کہ باوجود صدمہ زدہ ہونے کے دماغ معطر ہو رہا ہے۔گورنمنٹ کے جیل خانے بے وفاؤں اور غداروں کے لئے تیار کئے گئے تھے لیکن آج انہیں دو وفادار شخص جنہوں نے دوجہان کے سردار سے بھی وفاداری کی اور گورنمنٹ کی بھی وفاداری کی زینت دے رہے ہیں۔کیا مسلم آؤٹ لُک نے عدالت کی توہین کی محترم ججان نے فیصلہ کیا ہے کہ ان دونوں صاحبان نے یہ کہہ کر کہ یہ فیصلہ غیر معمولی ہے اور غیر معمولی حالات میں ہوا ہے اور اس کی تحقیق ہونی چاہئے عدالت عالیہ کی ہتک کی ہے۔مگر میرے نزدیک عدالت عالیہ کی یہ رائے درست نہیں۔یہ کہنا کہ جن حالات میں یہ فیصلہ ہوا ہے اس سے لوگوں کے دلوں میں شکوک پیدا ہو رہے ہیں اس