انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 561

۵۶۱ لئے اس کی تحقیق کرنی چاہئے اور یہ کہنا کہ جج نے کوئی بددیانتی کی ہے اس میں بہت بڑا فرق ہے۔اور میں خیال کرتا ہوں کہ عدالت عالیہ پنجاب بیسیوں مقدمات میں اس فرق کو تسلیم کر چکی ہو گی۔کیا اس میں کوئی شک ہے کہ ملک معظّم کی وفادار رعایا کے کروڑوں افراد اس فیصلہ پر جس کا حوالہ مسلم آؤٹ لک نے دیا حیران و انگشت بدنداں ہیں اور کیا عدالت عالیہ کا یہ فرض نہیں کہ جب ملک کی ایک بڑی تعداد ایک فیصلے پر حیران ہو اور خود گورنمنٹ بھی جو اس قانون کی وضع کرنے والی ہے اس کے عجیب اور خلاف امید ہونے کا اظہار کرے تو اس کے متعلق ایسے حالات بہم پہنچائے کہ جس سے پبلک کی تسلّی ہو اور اس کی گھبراہٹ دور ہو سکے۔اس میں کیا شک ہے۔کہ ملک کا امن عدالت عالیہ پر اعتبار سے قائم رہ سکتا ہے۔پس اس وجہ سے عدالت عالیہ کو معمولی شکوک کا بھی خیال رکھنا چاہئے اور انسانی فطرت کی کمزوریوں کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔سزا نادرست ہے عدالت عالیہ کو خواہ کسی فیصلہ کی صحت پر کس قدر بھی یقین ہو اور وہ ایک جج کی دیانت پر خواہ کس قدر ہی اعتماد رکھتی ہو اس سے پبلک کی تسلّی تو نہیں ہو جاتی اور اس سے پبلک میں عدالت عالیہ کا وقار تو قائم نہیں ہو جاتا۔پس عدالت عالیہ کو ایسے مواقع پر خود ہی پبلک کے احساسات کا خیال رکھنا چاہئے اور اس خیال سے تسلی نہیں لینی چاہئے کہ لوگوں کے خیالات غلط ہیں۔خیالات خواہ کس قدر ہی غلط ہوں مگر جب وہ پیدا ہو جائیں تو بے امنی پیدا کرنے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔اور عدالت کا فرض ہے کہ نہ صرف لوگوں کے خیالات کی درستی کی غرض سے بلکہ خود اپنی عزت کو صدمہ سے بچانے کے لئے وہ کوئی ایسی تدبیر اختیار کرے جس سے لوگوں کے شبہات کے دور ہونے کا موقع نکل آئے۔مسلم آؤٹ لک نے صرف اس قسم کی تدبیر اختیار کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی اور اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا تھا۔پس فاضل ججان کا اس کے ایڈیٹر اور مالک کو سزا دینا اور سخت سزا دینا میری رائے میں درست نہ تھا۔آؤٹ لک کا مطالبہ ہائی کورٹ کی خد مت تھی اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس مقدمہ کے متعلق غیر معمولی واقعات موجود تھے۔دفعہ ۵۳)۔الف ہر صوبہ کی گورنمنٹ کے نزدیک ایک خاص مفہوم رکھتا تھا اور پبلک اس مفہوم سے متفق تھی۔غالباً مختلف صوبوں میں مختلف گورنمنٹیں اس دفعہ کے ماتحت اگر مقدمات چلانہ چکی تھیں تو لوگوں کو اس امریکی دھمکی ضرور دے چکی تھیں اور لوگ بھی اس کا یہی مفہوم سمجھ کر معافیاں مانگ مانگ کر اپنی جان بچارہے تھے۔اگر ایک ہی وقت