انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 479 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 479

۴۷۹ یہ اور بھی آگے بڑھے یہاں تک کہ ہمارے اس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس پر ہم اپنی عزت، اپنی آبرو، اپنی جان، اپنامال، اپنی اولاد غرضیکہ ہر ایک شئے قربان کرنے کو تیار ہیں پہلے سے بھی زیادہ گالیاں دینے لگ گئے ہیں۔میں بھی چونکہ مسلمان ہوں اور خدا کے فضل سے ان مسلمانوں میں سے ہوں جنہیں خدا تعالی نے اس زمانہ میں اسلام کی خدمت کے لئے چُن لیا میرے دل میں درد ہے اور سب سے بڑھ کر درد ہے میں نے جب دیکھا قادیان سے جو ہمدردی کی آواز میں نے اٹھائی تھی اس پر کان نہیں دھرا گیا تو میں نے محسوس کیا مجھے قادیان سے باہر جا کر یہ آواز لوگوں تک پہنچانی چاہئے اور میں اسی درد کو لے کر لاہور آیا ہوں اور میں اسی دردسے یہ لیکچر دے رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ آپ لوگ اسے توجہ سے سنیں اور جو میں کہتا ہوں اسے مانیں اور میں سوائے اس کے کیا کہتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو اور ایک شخص کے فعل سے جسے ساری قوم برملا بُرا کہہ رہی ہے اس کی ساری قوم اور ہماری قوم کے پیشوا اور ہاد ی کو اس کا مجرم نہ ٹھہراؤ اگر آپ لوگوں کی عورتیں اور بیویوں اور بچوں اور ماؤں اور باپوں اور رشتہ داروں کو گالیاں دی جائیں اور ان پر عیب لگائے جائیں حالانکہ ان میں عیب ہوتے بھی ہیں تو کیا آپ خاموش رہ سکتے ہیں اور آرام سے بیٹھ سکتے ہیں اگر نہیں تو کیا ہم سے ہی یہ توقع ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللد علیہ وسلم کے متعلق جنہیں ہم اپنی جان ومال عزیزوں رشتہ داروں سے کہیں عزیزسمجھتے ہیں گالیاں سنیں اور خاموش رہیں اور آرام سے بیٹھے رہیں۔یقینا ًہم خاموش نہیں بیٹھ سکتے۔جب تک آپ لوگ تسلیم نہ کر لیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں نہیں دیں گے۔گالیاں دینے والوں سے صلح نہیں ہو سکتی ہم لڑیں گے نہیں اور نہ ہی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تعلیم ہے کہ لڑا جائے مگر ہم صلح بھی نہیں کر سکتے کہ ہمارے پیارے رسول کو گالیاں دی جاتی ہیں۔ہماری اس وقت تک اس شخص سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے صلح نہیں ہو سکتی جب تک وہ گالیاں ترک نہ کرے۔بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب مسیح موعود نے بھی ایک دفعہ فرمایا تھا کہ میں جنگل کے سانپوں سے صلح کر لوں گا لیکن اگر نہیں کروں گا تو ان لوگوں سے جو حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ان پر ناپاک حملے کرتے اور ان کے حق میں طرح طرح کی بدزبانی کرتے ہیں ۱۲؎ ہم صلح پسند ہیں لیکن ہم اس بات کو بھی پسند کرنے والے نہیں کہ صلح و آشتی کی تعلیم دینے والے کو بُرا کہا جائے۔ہم بہرے تھے