انوارالعلوم (جلد 9) — Page 478
۴۷۸ کو اند میرے سے نکال کر روشنی میں کھڑا کر گیا اس کے متعلق یہ نہ کہو کہ وہ ظالم اور مفسد تھا اور یہ فعل اس کی تعلیم کا نتیجہ ہے۔ہم کون ہیں؟ یاد رکھو ہم وہ لوگ ہیں جن کے ایک ایک آدمی کو مخالفین پکڑ کر لے گئے اس کو سخت ایذائیں پہنچائیں تکلیفیں دیں یہاں تک کہ اس کے جسم میں سوئیاں چبھوئی گئیں اس کے سامنے ایک سولی لٹکائی گئی اور اسے بتایا گیا یہ تمہارے لئے ہے ان تکلیفوں کے درمیان اس سے پوچھا گیا کیا تم چاہتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس کے سبب تمہیں یہ تکلیفیں پہنچ رہی ہیں یہاں ہوتا اور ان تکلیفوں میں مبتلاء ہوتا اور تم گھر میں آرام کرتے؟ یہ بات سن کر وہ نہایت اطمینان اور سکون سے مسکراتا ہوا کہتا ہے تم تو کہتے ہو کہ محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم یہاں ہوں اور یہ کہ کیا میں پسند کر سکتا ہوں کہ تکالیف ان کو پہنچ رہی ہوں اور میں اپنے گھر آرام سے بیٹھا ہوا ہوں لیکن مجھے تو یہ بھی پسند نہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں میں کانٹاچُبھے اور میں گھر میں آرام سے بیٹھا رہوں۔۱۱؎ غرض ہمارے جسم کا ہرذرہ محمد رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم پر قربان ہونے کا متمنی ہے ہماری جان بھی اسی کے لئے ہے سارا مال بھی اسی کے واسطے ہم اس پر راضی ہیں بخدا راضی ہیں۔پھر کہتا ہوں بخدا راضی ہیں کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے قتل کر دو ہمارے دیکھتے دیکھتے ہمارے اہل و عیال کو جان سے مار دو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو۔ہمارے مال لوٹ لو ہمیں اس ملک سے نکال دو لیکن ہمارے سردار حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتکاور توہین نہ کرو۔انہیں گالیاں نہ دو۔اگر یہ سمجھتے ہو کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دینے سے تم جیت سکتے ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ گالیاں دینے سے تم رک نہیں سکتے تو پھر یہ بھی یاد رکھو کہ کم سے کم ہم تمہارا اپنے آخری سانس تک مقابلہ کریں گے اور جب تک ہمارا ایک آدمی بھی زندہ ہے کہ اس جنگ کو ختم نہیں کرے گا۔حضرت نبی کریم ﷺ پر الزام مت دھرو میں نے قادیان سے بھی یہ اعلان کیا تھا کہ شردہا نندجی کے قتل کا فعل بہت بُرا فعل ہے اور جس نے کیا اس نے کوئی اچھا کام نہیں کیا لیکن یہ ایک شخص کا انفرادی فعل ہے اسلام کو اس سے کوئی تعلق نہیں اور اسلام کو اس سے معلوم نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔مگر میں یہاں تک دیکھتا ہوں کہ آریوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا اور