انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 477 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 477

۴۷۷ واقعات بتاتے ہیں کہ انہوں نے بالکل اس میں تبدیلی نہیں کی۔ہاں مسلمانوں نے ایک عظیم الشأن تبدیلی اپنے اندر پیدا کرلی ہے جو امن پیدا کرنے والی ہے مسلمانوں کی حالت میں تبدیلی ایک تازہ واقعہ جس نے ملک میں ہلچل مچادی ہے اور ہندوؤں کو مسلمانوں کے خلاف کھڑا کر دیا وہ شردهاند جی کا قتل ہے۔کسی نے انہیں قتل کیا میں نہیں جانتا مگر جس نے کیا اس کے فعل کو صرف میں ہی نہیں کہتا بلکہ سارا ہندوستان بلکہ افغانستان بھی بُرا کہتا ہے بلکہ اور بھی جس جس اسلامی ملک میں یہ آواز پہنچی وہاں لوگ کہہ رہے ہیں کہ اس فعل کے مرتکب نے بُرا کام کیا ہے۔پس ایک سِرے سے لے کر دوسرے سرے تک مسلمانوں کا اس واقعہ کے متعلق یہ کہنا کہ جس نے کیا بُرا کیا اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں نے اپنی حالت بدل لی ہے اور وہ بات جو ہندوؤں کی طرح پہلے ان میں پائی جاتی تھی وہ نہیں رہی اور اس کی بجائے ایسا طريق ایسا طریقر کیا گیا ہے جو امن قائم کرنے والا ہے اور وہ طریقہ جیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں اظہار نفرت کا ہے۔سو مسلمان اس شخص کی تائید کر سکتے تھے لیکن انہوں نے کوئی ایسی بات نہیں کی اور صاف صاف کہدیا کہ قاتل نے بُر اکیا انہوں نے اپنے اندر ایک تبدیلی کرلی ہے اور یہ تبدیلی نہایت مبارک ہے لیکن ہندوؤں نے کوئی تبدیلی نہیں کی جس کا افسوس ہے۔نبی کریمؐ کو گالیاں مت دو شردھانندجی کے قاتل کو میں نے بھی بُرا کہا اور مسلمانوں نے بھی کہا۔دوسرے ملکوں کے مسلمانون نے بھی کہا لیکن اس ہماری شرافت کا نتیجہ کیا نکلا ہم نے تو ہندوؤں سے ہمدردی کرتے ہوئے کہا کہ قاتل نے بُرافعل کیا ہے لیکن ہندوؤں نے اُلٹامحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو گالیاں دینی شروع کر دی ہیں۔اول تو یہ منطق نرالی ہے کہ اگر ایک مسلمان کہلانے والے نے مارا تو سب نے مارا۔اگر ایک اس فعل کی وجہ سے بُرا ہے تو مسلمان سب بُرے ہیں لیکن اس کو تسلیم کر کے بھی ہم کہتے ہیں کہ ہم سب برے سہی قاتل سہی جس قدر چاہو بُرا کہو ہمیں سزا دے لو، ہمارے ساتھ سختی کرلو، ہمیں گالیاں چھوڑ گولیاں مار لو لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نہ دو، اس کو بُرانہ کہو، اس کی شان گستاخی نہ کرو۔ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن نہیں اگر برداشت کر سکتے تو اس مقدس ہستی کی تو ان نہیں برداشت کر سکتے۔اس پاک وجود کے متعلق گالیاں نہیں برداشت کر سکتے۔ہاں وہ جس نے دنیا میں امن قائم کیا ان کی تعلیم دی وحشی انسانوں کو انسان بنادیا اور دنیا