انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 11 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 11

۱۱ ان کے بیٹوں نے کہا کہ یہ بوڑھا اب اس غم میں ہلاک ہو جائے گا حالانکہ حضرت یعقوب کو حضرت یوسف کی موت کا فکر اور اندیشہ نہیں تھا کیونکہ ان کو خدا تعالی نے بتایا ہوا تھا کہ یوسف ان کو مل جائے گا لیکن ان کے ناوان بیٹے نہیں جانتے تھے اور حضرت یعقوبؑ نے بھی ان کو کسی مصلحت کی وجہ سے نہیں بتایا تھا۔مگر حضرت یعقوبؑ غم کرتے تھے اور یا اسفي على يوسف کہتے تھے۔تو وہ یو سف پر افسوس نہیں کرتے تھے بلکہ وہ تو ان بیٹوں کے لئے غم کرتے اور روتے تھے تاکہ یوسف ان کا بھائی جلد مل جائے اور ان کو معاف کرے اور وہ خدا کی نظر میں منظور ہوں۔مگر وہ نادان یہی کہتے تھے کہ یہ بڈھاتو بس غم میں مر جائے گا۔حضرت یعقوب کے متعلق اللہ تعالیٰ و گلیم کالفظ فرماتا ہے اور کَظِیم اس شخص کو کہتے ہیں جس پر غم کی وجہ سے اس قدر رقت غالب ہو کہ اس کی وجہ سے وہ کلام نہ کر سکے۔تم میں سے بھی بعض لوگوں نے مجھے یہی کہا اور سمجھ لیا کہ بس اب تو یہ اپنی بیوی کے غم میں ہلاک ہو جائے گا۔ان نادانوں کو یہ علم نہیں کہ میرے پانچ بچے فوت ہو چکے ہیں ان میں سے ایک پر میں نے صرف ایک آنسو بہایا تھا اس لئے کہ تا میں شقی القلب نہ ٹهہروں اور اس لئے کہ رسول اللہ بھی اپنے بچے کی وفات پر روۓ تھے لیکن اس وقت جو مجھ کو افسوس ہوا ہے وہ اس لئے ہے کہ جو سکیم میں نے تیار کی تھی وہ اس طرح درہم برہم ہوگئی۔یہ حُزن نہیں تھا بلکہ آئندہ کے لئے غم تھا۔اس ایک بچہ کی وفات پر جو میں نے ایک آنسو بہایا تھا اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ جب میں بمبئی صحت کے لئے گیا تو وہاں میری لڑکی بیمار ہو گئی اس کی بیماری کی حالت میں میں ایک دن کے لئے کہیں باہر گیا۔میری عدم موجودگی میں مجھے وہ اس قدریاد کرتی کہ ابا ابا کہہ کر مجھے پکار تی۔اس کی نزع کی حالت تھی اس وقت میں گھر واپس آیا تو دیکھا کہ وہ تڑپتی اور کہتی تھی۔کیا میرے ابا آگئے اور گھر والوں نے بتایا کہ وہ آپ کے پیچھے آپ کو بہت یاد کرتی اور پکارتی رہی ہے۔ان حالات کا طبعی اثر میرے قلب پر ہوا اور میں نے آنحضرت ﷺ کی سنت پر ایک آنسو بہادیا۔بچوں کی وفات پر گو میں طبعی اثر سے خالی نہ تھا۔خدا نے مجھے شقی القلب نہیں بنایا ہے لیکن۔ایسا اثر نہیں ہوا کیونکہ مجھے کوئی یقینی علم نہیں تھا کہ یہ دین کے لحاظ سے کیسے ہوں گا لیکن یہاں تو ایک و جود کو دس سال تک تربیت کر کے تیار کیا اور اس پر بڑی امیدیں تھیں۔ایساوجود ہمارے ہاتھ سے جاتا رہا جس سے مستورات کی تعلیم و تربیت میں بہت بڑی مدد کی توقع تھی۔لوگوں کی تو