انوارالعلوم (جلد 9) — Page 383
۳۸۳ سکتی کہ حضرت علی ظاہر میں حضرت عمر کے دوست بنے ہوئے ہوں اور ان کی بیعت میں ہوں اور دل میں یہ خیال کرتے ہوں کہ خدا اور اس کے رسول کے حکم کے ماتحت وہ خلیفہ ہیں توماننا پڑتا ہے کہ یہ روایت عقل کے خلاف ہونے کے سبب بناوٹی اور جھوٹی ہے۔دوسری بات جو اس کو بالبداہت باطل ثابت کرتی ہے یہ ہے کہ حضرت علیؓ نے اپنی لڑکی کی شادی حضرت عمر سے کی ہے۔اب کون سا شخص ہے جو حضرت علیؓ کو ایک اعلیٰ درجہ کا ولی تو الگ رہا ایک غیور مسلمان سمجھتے ہوئے بھی یہ خیال کر سکے گا کہ انہوں نے اپنی لڑکی ایک منافق کو دے دی حالانکہ قرآن کریم میں رشتہ ناطہ کے تعلقات میں سب سے زیادہ زور تقویٰ پر دیا ہے۔اگر حضرت علی جیسا انسان خوف سے یالالچ سے اپنی اور کی ایک منافق کو دے سکتا ہے تو ایمان کا ٹھکانا کہیں نہیں رہتا اور اسلام ایک موہوم بات ہو جاتا ہے۔پس حضرت علی کا حضرت عمر کو اپنی لڑکی بیاہ دینا اس امر پر شاہد ہے کہ وہ ان کو غاصب اور منافق خیال نہیں کرتے تھے بلکہ ایک سچامتقی اور حق دار خلافت سمجھتے تھے۔میں تو حیران ہوتا ہوں کہ وہ لوگ جو خیال کرتے ہیں کہ حضرت علی حضرت عمر عمر کو منافق سمجھتے تھے کس طرح خوارج کو اس بات کے کہنے کا موقع دیتے ہیں کہ حضرت علی نعوذ بالله من ذ یک خلافت کی خواہش میں ایسے مخمور تھے کہ انہوں نے اپنی بے گناه لڑکی، حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نواسی ایک منافق اور بے دین شخص کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی کی وصیت کے خلاف خلافت اور نیابت کے حق کو غصب کر کے دین کی بربادی اور تباہی میں مشغول تھا دیدی ی انا لله وانا اليه راجعون۔۱۰۶؎ مصنّف ہفوات کو اگر اس نکاح میں شبہ ہو تو وہ شیعہ کتب مثلاً کلینی وغیرہ دیکھیں انہیں معلوم ہو جاۓ گا کہ کتب اہل شیعہ میں بھی اس نکاح کا ذکر ہے گو ایسے الفاظ میں ہے کہ شریف آدمی رسول کریم ﷺکے خاندان کے متعلق انہیں استعمال نہیں کرسکتا۔درایت کے علاوہ تاریخی طور پر بھی ایسے ثبوت ملتے ہیں کہ جو اس بات کو باطل قرار دیتے ہیں کہ حضرت علی دل میں خواہش خلافت رکھتے تھے یا یہ کہ حضرت عمر کو ان پر شبہ تھا۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عمر نے اپنے زمانہ خلافت میں بعض سفروں کے پیش آنے پر حضرت علی کو اپنی جگہ مدینہ کا امیر مقرر فرمایا تھا۔چنانچہ تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ واقعہ جسر کے موقع پر جو مسلمانوں کو ایرانی فوجوں کے مقابلہ پر ایک قوم کی زک اٹھانی پڑی تو حضرت عمر نے لوگوں کے مشورہ سے ارادہ کیا کہ آپ خود اسلامی فوج کے ساتھ ایران کی سرحد پر تشریف لے جائیں تو آپ