انوارالعلوم (جلد 9) — Page 334
۳۳۴ أمينة بنت شرحیل فلما أدخلت عليہ بسط يدہ اليها فکانها کرمت ذالک فأمر ابااسید ان يجھزها ويكسؤھا ثويين رازقیین – ۶۴؎ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے امیمہ بنت شراحیل سے نکاح کیاجب وہ آپ کے پاس لائی گئی اور آپ نے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا تو اس نے ایسا ظاہر کیا گویا وہ اس کو ناپسند کرتی ہے۔پس آپ نے ابا اسید کو حکم دیا ہے کہاسے واپس اس کے وطن پہنچاوے اور دو رازقی چادریں اس کو دے دے یہ حدیث جیسا کہ اوپر آچکا ہے انہی ابو اسید کی بیان کردہ ہے جنہوں نے پہلی حدیث بیان کی ہے اور یہی ہیں جن کو کپڑے دینے کا حکم ملا ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ وہ عورت رسول کریم صلی الله علیہ وسلم کی منکوحہ تھی۔اس سیاق و سباق کی موجودگی میں مصنّف ہفوات کا جونیہ کو ایک اجنبی عورت قرار دے کر اور ایک سر تا پا جھوٹا قصہ بنا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر گندے سے گندے اعتراضات کرنا خواه وہ اعتراضات بظاہر ائمہ حدیث کا نام لے کر ہی کیوں نہ کئے جائیں۔اس امر دلالت کرتا ہے کہ ان کو اسلام اور بانی اسلام سے محبت نہیں بلکہ عداوت ہے اور یہ امر ثابت ہو جاتا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر حقیقت کو چھپایا ہے نہ کہ نادانی سے واقعات کو نظرانداز کیا ہے۔میرے نزدیک مصنّف ہفوات کے اعتراض کی حقیقت پوری طرح تب بے نقاب ہوگی جب میں جونیہ کا تمام واقعہ تاریخ سے بیان کر دوں۔طبری ابن سعود اور ان مجربے زبردست مورخین کی تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اسماء یاامیمہ اس کے نام میں اختلاف ہے (مگر میرے نزدیک ہو سکتا ہے کہ اس کے دو نام ہوں۔ایسابہت دفعہ ہوتا ہے کہ ایک شخص کے دو نام ہوتے ہیں یا تو مختلف رشتہ دار مختلف نام رکھ دیتے ہیں یا بعض لوگ خودہی بڑی عمرمیں اپنے لئے ایک اور نام پسند کر لیتے ہیں اور لوگوں میں وہ ان مختلف ناموں کی وجہ سے مشہور ہو جاتے ہیں) کنده قبیلہ سے تھی اور اس نسبت سے کندیہ کہلاتی تھی۔اس کے والد کا نام اسود ابوالجون تھا۔اس وجہ سے یہ جونیہ یا بنت الجون کہلاتی تھی۔بعض روایات میں اس کو اسود کی پوتی اور نعمان کی بیٹی لکھا ہے۔لیکن یہ اختلاف ہے حقیقت اور اصل مطلب سے بے تعلق ہے۔جب عرب فتح ہوا اور اسلام پھیلنے لگا تو اس کا بھائی نعمان یا بموجب بعض روایات کے اس کا والد نعمان رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اپنی قوم کی طرف سے بطور وفد کے حاضر ہوا اور اس موقع پر اس نے یہ بھی خواہش ظاہر کی کہ اپنی ہمشیرہ کی شادی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کر دے اور بالمشافہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست بھی کر دی کہ میری ہمشیرہ جو پہلے اپنے ایک رشتہ دار سے بیاہی