انوارالعلوم (جلد 9) — Page 335
۳۳۵ حق الیقین ہوئی تھی اور اب بیوہ ہے نہات خوبصورت اور لائق ہے آپ اس سے شادی کر لیں۔چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قبائل عرب کا اتحاد منظور تھا آپ نے اس کی یہ درخواست منظور کر لی۔فرمایا کہ ساڑھے بارہ اوقیہ چاندی پر نکاح پڑھ دیا جائے۔اس نے کہا کہ یا رسول اللہ! ہم معزّز لوگ ہیں مہر تھوڑا ہے۔آپ نے فرمایا اس سے زیادہ میں نے کسی اپنی بیوی یا لڑکی کی مہر نہیں باندھا۔جب اس نے رضامندی کا اظہار کیا نکاح پڑھا گیا اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ کسی آدمی کو بھیج کر اپنی بیوی منگوا لیجئے۔آپ نے ابا اسید کو اس کام پر مقرر کیا وہ تشریف لے گئے۔جونیہ نے ان کو اپنے گھر میں بلایا تو آپ نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں پر حجاب نازل ہو چکا ہے۔اس نے اس پر دوسری ضروری ہدایات دریافت کیں۔آپ نے بتادیں اور اونٹ پر بٹھا کر مدینہ لاۓ اور ایک مکان میں جس کے گرد کھجوروں کے درخت بھی تھے لا کر اتارا۔اس کے ساتھ اس کی دایہ بھی اس کے رشتہ داروں نے روانہ کی تھی جس طرح کہ ہمارے ملک میں ایک بے تکلف نوکر ساتھ کی جاتی ہے یا کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔چونکہ یہ عورت حسین مشہور تھی اور یوں بھی عورتوں کو دلہن کے دیکھنے کا شوق تھا مدینہ کی عورتیں اس کو دیکھنے گئیں اور اس عورت کے اپنے بیان کے مطابق کسی عورت نے اس کو سکھا دیا کہ رعب پہلے دن ہی ڈالا جاتا ہے۔جب رسول کریم صلی الله علیہ وسلم تیرے پاس آئیں تو تو کہہ دیجئیو کہ میں آپ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔اس پر وہ تیرے زیادہ گرویدہ ہو جائیں گے۔اگر یہ بات اس عورت کی بنائی ہوئی نہیں تو کچھ تعجب نہیں کہ کسی منافق نے اپنی بیوی یا اور کسی رشتہ دار کے ذریعہ یہ شرارت کی ہو۔غرض جب اس کی آمد کی اطلاع رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو ملی آپ اس گھر کو تشریف لے گئے جو اس کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔اور اس کو اپنے پاس بیٹھنے کے لئے کہا۔اس نے اس پر کراہت کا اظہار کیا۔آپ نے اس خیال سے کہ یہ اجنبیت کی وجہ سے گھبرا رہی ہے تسکین اور تسلی دینے کے لئے اس پر ہاتھ رکھا جس پر اس نے وہ نامعقول فقرہ کہا کہ میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں۔چونکہ نبی خدا کا نام سن کر ادب کی روح سے بھر جاتا ہے اور اس کی عظمت کا متوالا ہوتا ہے اس کے اس فقرہ پر آپ نے اسے کہہ دیا کہ تُو نے بڑے کا واسطہ دیا ہے میں تیری درخواست کو قبول کرتا ہوں اور اسے طلاق دے کر رخصت کر دیا اور ابواسید کو پھر اس کام پر مقرر کر دیا کہ اسے اس کے گھر واپس کر آئیں۔اور علاوہ مہر کے حصہ کے دو ازرقی چادریں بھی اس کو دینے کا حکم دیا تاکہ قرآن کریم کا حکم ولا تنسوا الفضل ۶۵؎ پورا ہو جو ایسی عورتوں کے متعلق ہے جن کو