انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 290

۲۹۰ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نہیں تھیں ایک بڑهیا تھی اور ایک جوان۔جب وہ عمر رسیدہ کے گھر ہو تا تو جس وقت وہ سوجاتا تو وہ اس خیال سے کہ یہ اپنے سیاہ بال دیکھ کر خیال کرے گا کہ یہ عورت تو بڑھیا ہو گئی ہے اور میرے بال ابھی سیاہ میں اس لئے میری مجالست کے قابل زیاده جوان ہی ہے اس کے سیاہ بال ایک ایک دو دو کر چنٹی رہتی۔اسی طرح جب وہ جوان عورت کے گھر ہوتا تو وہ بھی اس خیال سے کہ یہ اگر اپنے سفید بال دیکھے گا تو خیال کرے گا کہ میں اب بوڑھا ہو گیا اب اس جوان عورت کی نسبت میری صحت کے قابل بڑھیا عورت ہی ہے اس لئے سفید بال نوچتی رہتی۔نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ دنوں کے بعد اس کے سر اور داڑھی میں نہ سفید بال رہے اور نہ کالے۔یہی تجویز آپ کتب عليه کے متعلق بتاتے ہیں کہ جس قوم کو کوئی خیال اپنے عقیدہ کے خلاف کسی کتاب میں نظر آوے جھٹ اس کا اِحکاک وہاں سے کردے مثلاً احادیث کی تدقیق کے متعلق اختلاف ہے بعض لوگوں کے نزدیک بعض راوی کمزور ہیں بعض کے نزدیک دوسرے۔مصنّف ہفوات کے بتائے ہوئے اصل کے مطابق ہر ایک فریق اپنے فہم کے خلاف جس قدر باتیں پاۓ ان کو کتب حدیث میں سے نکال دے حنفی جس قدر احادیث میں رفع یدین یا ہاتھ سینے پر باندھنے یا آمین با لجہریا اور دیگر اختلافی مسائل کے متعلق اپنی رائے کے خلاف ذکر دیکھیں ان کو کتب حدیث سے نکال دیں۔اور اہل حدیث ان سب حدیثوں کا اخراج کردیں جو حنیفوں کے مسائل کی تائید میں ہیں۔اگر ایسا ہونے لگ جائے تو آپ جانتے ہیں کہ اس کا نتیجہ کیا نکلے؟ علم بالکل مفقود ہو جاے اور تحقیق کا دروازہ بند ہو جائے اور تاریخ ایسی مسخ ہو جائے کہ سَو سال پہلی بات کا معلوم کرنا بھی بالکل ناممکن نہ جائے اور بد دیانتی اور خیانت کا دروازه اتنا وسیع ہو جائے کہ اس کا بند کرنا حد ِ امکان سے نکل جائے۔ہر شخص کا اختیار ہے کہ جس بات کو ناپسند کرے ردّکر دے لیکن کسی کو یہ اختیار نہیں کہ مصنّف کے بیان میں کمی بیشی کردے۔اگر کسی کو بخاری کی اکثر احادیث غلط نظر آتی ہیں تو وہ ان کو ردّ کر سکتا ہے مگر امام بخاری کی تصنیف میں سے اپنے مطلب کے خلاف باتیں نکال کر ایک نئی صورت میں اس کو بدل دینا ہرگز جائز نہیں بلکہ یہ ایک ایسی خیانت ہے، ایک ایسا فریب ہے جس کو صرف کوئی سیاہ باطن اور جاہل انسان ہی جائز قرار دے سکتا ہے۔ایک اور خطرناک نیچے بھی اس جاہلانہ تجویز پر عمل کرنے سے پیدا ہو سکتا ہے اور وہ یہ کہ ایسے زمانوں میں جب کہ کسی قوم پر فَترة کا زمانہ آیا ہوا ہو اور جہالت اس کے میدانوں میں ڈیرے