انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 289

۲۸۹ حق الیقین عظیم الشان فوائد سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا۔قرآن کریم میں جن منافقوں کی خبر دی جاتی ہے ان کی شرارتوں کا نقشہ ہمارے دلوں پر کب جم سکتا تھا اگر ان کی مشہور کردہ روایات کا ایک سلسلہ ہم تک نہ پہنچ جاتا۔ان کی روایتوں کا بقیہ بھی ہمیں الفاظ قرآنیہ کی حقیقت اور اس رحم اور صبر کا پتہ دیتا ہے جس سے خدا اور رسول نے منافقوں کے متعلق کام لیا۔غرض بعض روایات کی غلطی سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ کام ہی عبث تھا اور نہ محدثین کی خدمت اسلام میں کوئی شبہ لاحق ہوتا ہے اور نہ ان کی شان میں کوئی کمی آتی ہے انہوں نے فوق العادت محنت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس کے نقشہ کو ہمارے لئے محفوظ کر دیا ہے اور اگر ہم میں سے کوئی ان کی بشری غلطیوں سے ٹھوکر کھاتا ہے تو یہ اس کی بدقسمتی ہے اگر وہ اس قسم کی غلطیوں سے ڈر کر اس کام کو چھوڑ دے تو یقیناً اللہ تعالیٰ کے حضور میں مجرم ہوتے اور ان سے پوچھا جاتا کہ کیوں انہوں نے ایک مفید علم کو زندہ گاڑ دیا۔مصنّف صاحب ہفوات کا یہ قول کہ چونکہ بعض ایسی احادیث مروی ہیں کہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کے خلاف ہیں اس لئے ان کو جلا دینا چاہئے اور پھاڑ دینا چاہئے اور مٹادینا چاہئے ان کی نہایت کم علمی اور جہالت پر دلالت کرتا ہے کیا دنیا کا یہ بھی قاعدہ ہے کہ جس کتاب میں کوئی غلطی ہو جائے اسے جلا دیا جائے یا اس حصہ کوبیچ میں سے نکال دیا جائے اگر اس طریق پر عمل کیا جائے تو دنیا سے علوم کا خاتمہ ہو جائے۔اور یہ توسخت بد دیانتی ہے کہ مصنف کچھ لکھے اور پچھلے اس کو مٹاڈالیں۔اگر یہ صورت اختیار کی جائے تو کی تصنیف پر اعتبار ہی کیا رہ سکتا ہے مثلاً پچھلی طب کی ُکتب جو بو علی سینا ۱۳؎ کی تصنیف ہیں ان کو موجودہ تحقیقات کے مطابق بدل دیا جائے۔فلسفہ میں جو جدت پیدا ہوئی ہے اس کے ماتحت پچھلی فلسفہ کی کتب میں تبدیلی کر دی جائے گویا اپنے جاہلانہ خیالات میں تبدیلی پیدا کرنے کے سوا اور ہر ایک چیز میں تبدیلی پیدا کر دی جائے۔مصنف ہفوات نے اس قدر نہ سوچا کہ اگر پچھلے مصنّفین کی کتب میں اس قسم کی تبدیلی جائز ہو تو روایت کا اعتبار کیا رہ جائے اور درایت کی بنیاد کس امر پر ہو۔ہزاروں باتیں ہیں جو ایک زمانہ کے خیالات کی روشنی میں قبیح نظر آتی ہیں اور ایک دوسرے زمانہ کے خیالات کی روشنی میں خوبصورت۔اگر ہر زمانہ کے لوگ اپنے خیالات کے مطابق پچھلی کتب کو بدل لیا کریں تو باقی کیا رہ جاۓ؟ آپ کی اس تجویز پر عمل کر کے بالکل وہی حال ہو جو اس شخص کا ہوا تھا جس کی دو بیویوں میں سے ایک بوڑھی اور ایک جوان تھی۔