انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 211

۲۱۱ تھی آج مَیں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ان مشکلات سے گھبرانا نہیں چاہئے کیونکہ یہ بھی سلسلہ کی سچائی کی ایک علامت ہے۔ایک فرانسیسی مصنف لکھتا ہے مَیں نے بیسیوں کتابیں پڑھی ہیں جن میں لکھا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) جھوٹا ہے مگر مَیں اُن کتابوں کو کیا کروں جب کہ مَیں دیکھتا ہوں کہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ان لوگوں میں جو غریب، وحشی اور غیر تعلیم یافتہ ہیں ایک کچے مکان میں بیٹھا ہوا جو چھوٹا سا کمرہ ہے اور مسجد کے نام سے مشہور ہے۔اور جس کی چھت پر کھجور کی ٹہنیاں بغیر صاف کئے پڑی ہیں اور جب بارش ہوتی ہے تو اِتنا پانی ٹپکتا ہے کہ سجدہ پانی میںکرنا پڑتا ہے ایسے لوگوں میں جن میں سے کسی کے پاس بھی سارا تن ڈھانکنے کے لئے کپڑا نہیں۔یہ مشورہ کر رہا ہے کہ ساری دُنیا کو کس طرح فتح کرنا چاہئے اور پھر ایسا کرکے بھی دکھا دیتا ہے۔وہ مصنف کہتا ہے لاکھوں صفحوں کے مقابلہ میں جب مَیں اس واقعہ کو دیکھتا ہوں تو سب باتیں حقیر معلوم ہوتی ہیں۔اِسی طرح جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے دعویٰ کیا تھا اُسی وقت اُمراء اور بادشاہ آپ کے ساتھ شامل ہو جاتے تو کیونکر ثابت ہوتا کہ آپ کو جو کامیابی حاصل ہوئی وہ خدا کا فعل تھا۔وہ تو امراء اور بادشاہوں کا فعل سمجھا جاتا۔مگر جب آپ نے دعویٰ کیا تو سب بھائی بند اور عزیز رشتہ دار آپ کے دشمن ہو گئے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا سب سے بڑا دوست اور آپ کے علم اور معرفت کا سب سے بڑا معترف مولوی محمد حسین بٹالوی تھا۔اس نے اعلان کر دیا کہ آپ کا دماغ بگڑ گیا ہے۔مَیں نے اسے بڑھایا تھا، مَیں ہی اِسے گِرائوں گا۔ساری دنیا کے علماء نے آپ کا مقابلہ کیا۔عرب اور عجم سے آپ کے خلاف فتوے منگائے گئے مگر باوجود دُنیا کی اسقدر مخالفت کے آپ اکیلے اُٹھے اور کہا یہ ٹھیک ہے کہ میرے ساتھ کوئی آدمی نہیں اور ساری دُنیا میری دشمن بن گئی ہے۔مگر مَیں اس آواز کو کیا کروں جو مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے سُنائی دے رہی ہے کہ ’’دُنیا میں ایک نذیر آیا پر دُنیا نے اُسے قبول نہ کیا لیکن خدا اُسے قبول کریگا اور بڑے زور آور حملوں سے اُس کی سچائی ظاہر کر دیگا۔‘‘ مَیں اس آواز کا کس طرح انکار کردوں۔اسوقت گورنمنٹ بھی آپ کی مخالف تھی اور تمام لوگ بھی دشمن تھے مگر نتیجہ کیا نکلا؟ وہ ایک طرف تھا اور ساری دنیا دوسری طرف مگر یہ اتنے لوگ اس کے شکار پکڑے ہوئے یہاں بیٹھے ہیں اور یہ تو اس جگہ کا نظارہ ہے باہر لاکھوں کی تعداد میں موجود ہیں۔