انوارالعلوم (جلد 9) — Page 207
۲۰۷ نشین کر دی جائے تو بچہ جھوٹ سے بچ سکتا ہے۔(۲۰) بچوں کو علیحدہ بیٹھ کر کھیلنے سے روکنا چاہئے۔(۲۱) ننگا ہونے سے روکنا چاہئے۔(۲۲) بچوں کو عادت ڈالنی چاہئے کہ وہ ہمیشہ اپنی غلطی کا اقرار کریں اور اسکے طریق یہ ہیں: (۱) اُن کے سامنے اپنے قصوروں پر پردہ نہ ڈالا جائے (۲) اگر بچہ سے غلطی ہو جائے تو اس سے اِس طرح ہمدردی کریں کہ بچہ کو یہ محسوس ہو کہ میرا کوئی سخت نقصان ہو گیا ہے جسکی وجہ سے یہ لوگ مجھ سے ہمدردی کر رہے ہیں۔اور اُسے سمجھانا چاہئے کہ دیکھو اِس غلطی سے یہ نقصان ہو گیا ہے۔(۳) آیندہ غلطی سے بچانے کے لئے بچہ سے اس طرح گفتگو کی جائے کہ بچہ کو محسوس ہو کہ میری غلطی کی وجہ سے ماں باپ کو تکلیف اُٹھانی پڑی ہے۔مثلاً بچہ سے جو نقصان ہوا ہو وہ اس کے سامنے اس کی قیمت وغیرہ ادا کرے اِس سے بچہ میں یہ خیال پیدا ہوگا کہ نقصان کرینکا نتیجہ اچھا نہیں ہوتا۔کفارہ نہایت گندہ عقیدہ ہے مگر میرے نزدیک بچہ کی اِس طرح تربیت کرنے کے لئے نہایت ضروری ہے۔(۴) بچہ کو سر زنش الگ لیجا کر کرنی چاہئے۔(۲۳) بچہ کو کچھ مال کا مالک بنانا چاہئے۔اس سے بچہ میں یہ صفات پیدا ہوتی ہیں : (۱) صدقہ دینے کی عادت۔(۲) کفایت شعاری۔(۳) رشتہ داروں کی امداد کرنا۔مثلاً بچہ کے پاس تین پیسے ہوں تو اُسے کہا جائے ایک پیسہ کی کوئی چیز لائو اور دوسرے بچوں کے ساتھ ملکر کھائو۔ایک پیسہ کا کوئی کھلونا خرید لو۔اور ایک پیسہ صدقہ میں دے دو۔(۲۴) اِسی طرح بچوں کا مشترکہ مال ہو۔مثلاً کوئی کھلونا دیا جائے تو کہا جائے۔یہ تم سب بچوں کا ہے۔سب اس کے ساتھ کھیلو۔اور کوئی خراب نہ کرے۔اِس طرح قومی مال کی حفاظت پیدا ہوتی ہے۔(۲۵) بچہ کو آداب و قواعد تہذیب سکھاتے رہنا چاہئے۔(۲۶) بچہ کی ورزش کا بھی اور اُسے جفاکش بنانے کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔کیونکہ یہ بات دنیوی ترقی اور اصلاحِ نفس دونوں میں یکساں طور پر مفید ہے۔اخلاق اور روحانیت کی جو تعریف میں اوپر بیان کر چکا ہوں اسکے مطابق وہی بچہ تربیت یافتہ کہلائیگا جس میں مندرجہ ذیل باتیں ہوں: (۱) ذاتی طور پر بااخلاق ہو اور اسمیں روحانیت ہو (۲) دوسروں کی ایسا بنانے کی قابلیت رکھتا ہو۔(۳) قانوں، سلسلہ کے مطابق چلنے کی قابلیت رکھتا ہو۔