انوارالعلوم (جلد 9) — Page 183
۱۸۳ ثم جعلنٰہ نُطْفَۃً فی قرارٍ مکینٍ۔ثمّ خلقنا النطفۃ علقۃ فخلقنا العلقۃ مضغۃ فخلقنا المضغۃ عظٰمًا۔فکسونا العِظٰم لحماً۔ثمّ انشأنٰہ خلقًا اٰخر فتبارک اللّٰہ احسن الخالقین۔(۲۳-۱۳تا ۱۵) انسان کو خدا نے سب سے اعلیٰ مخلوق بنا دیا اور سب خُلق اس کے ماتحت آگئی۔اب اس اصل کو سمجھ لینے کے بعد انسانی اخلاق پر غور کرو۔سب اخلاق کا باعث یہی سیدھے سادھے خواص جو مادے میںپائے جاتے ہیں نظر آتے ہیں۔جو مختلف مدارجِ ارتقاء کے بعد اس حالت کو پہنچ گئے ہیں۔اور اس وجہ سے ان کو اپنی ذات میں ہم ہر گز بُرا نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ وہ طبعی تقاضے ہیں۔ہم انہیں تبھی بُرا کہہ سکتے ہیں۔جب وہ بے محل استعمال ہوں۔مثلاً بز دلی ہے، سب لوگ اسے بُرا کہتے ہیں۔لیکن کیا اس کا یہی مطلب نہیں ہے کہ ایک بات سے انسان پیچھے ہٹتا ہے۔اور خالی پیچھے ہٹنا بُرا نہیں کہلا سکتا ہے۔وہ اعراض کے قدرتی جذبہ کا اظہار ہے۔ہم اسے تبھی بُرا کہیں گے جب کہ وہ فعل عقل اور مقتضائے وقت کے خلاف کیا گیا ہو۔چنانچہ ہم زہد کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی پیچھے ہٹنے کا ہی فعل ہے لیکن سب لوگ اسے اچھا کہتے ہیں۔حالانکہ دونوں فعلوں کی شکل ایک ہے۔لیکن حق یہ ہے کہ یہ فعل بھی اپنی ذات میں نہ اچھا ہے نہ بُرا۔بلکہ جب عقل اور مقتضائے وقت کے مطابق یہ فعل ہوتو اچھا ہے ورنہ بُرا خواہ اس کا نام زہد رکھو یا کچھ اور۔اسی طرح صبر ہے، اس میں بھی خاصیتِ اعراض کا ہی ظہور ہے۔اور ہم اسے اچھا تبھی کہیں گے جب یہ عقل و متقضائے وقت کے مطابق ہو ورنہ نہیں۔اب مَیں ایک مثال خاصیتِ میل کی بیان کرتا ہوں اور وہ عاشقانہ محبت کی یعنی اُس محبت کی جو محب اپنے محبوب سے کرتا ہے مثال ہے۔ایک مرید اپنے پیر سے یا شاگرد اپنے اُستاد سے اس قسم کی محبت کرتا ہے۔وہ اسکے حسن کو دیکھ کر جو اپنے اندر جذب رکھتا ہے اسکی طرف جھک جاتا ہے۔جب یہ محبت عقل و مقتضائے وقت کے ماتحت ہوتی ہے خُلق حسن کہلاتی ہے۔اور جب ایسی نہ ہو تو آوارگی اور کمینگی۔لیکن دونوں حالتوں کے اندر حقیقت ایک ہی پوشیدہ ہے۔اور وہی خاصیت دوسرے کی کشش کو قبول کر لینے کی جو مادہ میں بھی موجود تھی ایک دوسری شکل میں ظاہر ہوئی ہے۔قوتِ دفع سے پیدا ہونے والے اخلاق کی مثال میں بہادری کو پیش کیا جا سکتا ہے۔بہادری کیا ہے۔وہی خاصیت دفع کی جو مادہ میں موجود تھی اس شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔اور جب موقع مناسب پر استعمال کی جائے تو خُلق حسن کہلاتی ہے۔ورنہ بد خُلقی۔گالیاں دینے کی عادت بھی اسی خاصیت کی