انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 184

۱۸۴ ایک شاخ ہے۔اس کی غرض بھی دوسرے کے الزام یا حملہ یا ظلم کو اپنے سے دور کرنا ہوتی ہے۔قوتِ جذب کا ایک ظہور ہے۔قوتِ جذب دوسری اشیاء کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔یہی مادہ جس وقت حرص انسانی افعال میں ظاہر ہوتا ہے تو کبھی حرص کی شکل میں اموال اور رُتبوں کو کھینچنے میں لگ جاتا ہے اور جب ناجائز طور پر ظاہر ہوتا ہے تو اسے بُرا ا ورنہ اچھا کہتے ہیں۔اسی خاصیت کے ماتحت بشاشت یعنی خوش خلقی سے ملنا بھی ہے اور مدح اور محبت، محبوبی اور درع اور اشاعتِ حق کے لئے جھگڑنے کی صفات بھی اسی جذبہ کے ماتحت ہیں۔فناء کی خاصیت سے پیدا ہونے والے اخلاق کی مثال میں تہور کو پیش کیا جا سکتا ہے۔تہورّ اس جذبہ کو کہتے ہیں کہ انسان اپنی فنا کا فیصلہ کر لیتا ہے اور کہہ دیتا ہے۔کہ مَیں اپنی جان کی بالکل پرواہ نہیں کرونگا۔یہ جذبہ بھی کبھی عقل کے ماتحت ہوتا ہے۔اسوقت یہ جذبہ نہایت اعلیٰ ہوتا ہے جیسے نعمت اللہ خان نے کیا کہ جان دینے کا قطعی فیصلہ کر لیا مگر ایمان کی حفاظت کی۔جب عقل کے ساتھ صحیح طور پر اس کا استعمال کیا جاتا ہے تو کہتے ہیں یہ قربانی ہے لیکن جب عقل کے ماتحت نہ ہو جیسے آگ جل رہی ہو اور کوئی اس میں گر کر اپنے آپ کو جلا دے تو یہ بھی تہور ہی ہے۔لیکن عقل کے ماتحت نہیں اسلئے بُرا ہے۔دوسری مثال اس جذبہ کی احسان ہے۔یعنی ایک شخص دوسرے کی خاطر اپنا حق چھوڑ دیتا ہے اور ایک حد تک اپنے لئے فنا کے سامان پیدا کرتا ہے۔چونکہ وہ ان اشیاء کو جو اُسکے بقاء کے لئے تھیں دوسروں کو دے دیتا ہے۔افناء کی خاصیت سے پیدا ہونیوالے اخلاق کی مثال میں قتل، غارت، کینہ کو پیش کیا جا سکتا ہے کہ ان اخلاق کی تہ میں افنا کی خواہش کا زور معلوم ہوتا ہے۔ابقاء کی خاصیت کے ماتحت پیدا ہونے والے اخلاق کی مثال میں سخاوت، امید، احسان اور اسی قسم کے اور اخلاق کو پیش کیا جا سکتا ہے (احسان کو پہلے فناء کے نیچے بیان کیا گیا ہے۔اسکی یہ وجہ ہے کہ بعض اخلاق مرکب ہوتے ہیں ار وہ خاصیتوں سے مل کر پیدا ہوتے ہیں یا مختلف وقتوں میں مختلف جذبات کا ظہور ہوتے ہیں) کبر دوسروں سے آگے بڑھنے کی خواہش، شجاعت، خود پسندی، ظہور کی خاصیت سے پیدا ہونے والے اخلاق میں شمار ہو سکتے ہیں۔کیونکہ انکی تہ میں ظاہر ہونے کی خواہش مخفی ہے۔افشاء سر، ریاء، بے حیائی، صدق ایسے اخلاق میں جو اظہار کی خاصیت کے غیر مادی ظہور