انوارالعلوم (جلد 9) — Page 114
۱۱۴ پنچایتوں کا قیام تصفیہ تنازعات اور پنچایتوں کا قیام بھی ایک نہایت ہی نازک سوال ہے۔اور اس میں سب سے بڑی شکل اختلاف مابين الجماعات کی ہے۔بعض فرقے دوسرے فرقوں کے اسقدر مقہور ہیں کہ ان کو ان سے انصاف کی ہرگز کوئی امید نہیں ہو سکتی جن کی جانیں محفوظ نہ ہوں ان کے مال اور عز تیں کہاں محفوظ ہو سکتی ہیں۔پس پنچایتوں کا عام قانون نہیں بنایا جا سکتا۔(1) ہر فرقہ کے لوگ آپس کے جھگڑوں کو لازماً آپس میں طے کریں۔عدالتوں میں ان کو نہ لے جاویں۔سواۓ فوجداری مقدمات کے جن میں سے ایسے مقدمات جن کا عدالتوں میں لے جانا قانونی طور پر ضروری ہے اس قاعدہ سے مستثنٰی سمجھے جاویں۔(۲) دو مختلف جماعتوں کے جھگڑے کی صورت میں یہ فیصلہ کیا جاوے کہ جو جماعتیں کہ عام نظام میں شامل ہونا چاہتی ہیں وہ اس میں شامل ہو جاویں۔جن کو ابھی اپنی ہمسایہ قوم پر اعتبار نہ ہو ان کو مہلت دی جائے کہ ہم اس نظام کی خوبی کا تجربہ کر لیں۔پھر جو جو قوم مطمئن ہوتی جاوے وہ عام نظام پنچایت میں شامل ہوتی جائے۔ہاں یہ ضروری ہو گا کہ تجارتی اور صنعتی جھگڑوں کو عام پنچایتوں سے الگ رکھا جائے کیونکہ ان کی باریکیوں کو عام لوگ نہیں سمجھ سکتے۔پس عام پنچایتوں کے ساتھ ساتھ ایک تجارتی و صنعتی پنچایتوں کا سلسلہ بھی ہونا چاہئے۔تحفظ مساجد و اوقاف مکاتب یہ سوال بھی گو توجہ طلب ہے مگر پیچیدہ ضرور ہے۔میرے نزدیک اس سوال کو ان دنوں خواہ مخواہ ایک قومی رنگ دے دیا گیا ہے۔میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ مساجد کی حفاظت ہو مگر مساجد کی حفاظت اس طرح نہیں ہو سکتی کہ ہم ان کی چھتوں کا خیال رکھیں اور وہاں لوٹے مہیا کریں بلکہ مساجد کی حفاظت نماز کی طرف توجہ پیدا کرانے سے ہو سکتی ہے۔جس مسجد کے نمازی موجود ہیں وہ آباد ہے اور اس کی حفاظت کے لئے کسی بیرونی جدوجہد کی ضرورت نہیں۔پس تحفظ مساجد کا اصل حل مسلمانوں میں مذہبی روح کا پیدا کرنا ہے اور بڑوں اور چھوٹوں کو مجبور کرنا ہے کہ وہ نمازوں میں شامل ہوں۔بے شک جو مساجد شکستہ ہیں اور جن کا انتظام خراب ہے اُن کا انتظام کرنا چاہئے مگر کثیر التعداد جماعتوں کو ایک منٹ کے لئے بھی قلیل التعداد جماعتوں کی مساجد میں دخل اندازی کا خیال نہیں کرنا چاہئے ورنہ مسجدیں آباد نہ ہوں گی ویران ہوں گی۔اسلام کی طاقت بڑھے گی نہیں کمزور