انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 110

۱۱۰ تنظیم کاسوال دوسرا سوال تنظیم کا ہے۔یہ سوال بھی نہایت اہم ہے۔بغیر تنظیم کے کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی بلکہ زندہ نہیں رہ سکتی۔تنظیمی پروگرام مقرر کرتے ہوئے ہمیں ان امور کو سوچنا نہایت ضروری ہو گا۔(1)مختلف جماعتوں کے اندرونی انتظام پر اس کا اثر نہ پڑے۔(۲) افراد کو کانشس کی قربانی نہ کرنی پڑے۔(۳) ذاتی بلندی کے حصول کے خیالات اس نظام کو بودہ اور کمزور نہ کر دیں۔دوسری بات اس امر کے لئے یہ ضروری ہو گی کہ اس نظام کی باگیں ایک فی الواقع منتخب شده جماعت کے ہاتھ میں ہوں۔جو وقتاً فوقتأً دوبارہ منتخب ہوتی رہے۔اس سے ایک طرف تو مسلمانوں کے اندر حقیقی نیابت کا طریق کار راسخ ہوتا چلا جائے گا (۲) دو سرے عامہ رائے کی تربیت ہوتی چلی جائے گی۔(۳) تیسرے عوام الناس کی دلچسپی کام سے بڑھ جائے گی۔(۴) ایک ایسی سیاسی مشینری تیار ہو جائے گی۔جو تحفظ حقوق کے لئے ہر وقت استعمال کی جا سکے گی۔(۵) ہم گورنمنٹ کو دکھا سکیں گے کہ موجودہ فرنچائز ناواجب طور پر محدود ہے۔مختلف صیغوں کی ضرورت تیسری بات اس تنظیم کے لئے یہ ضروری ہوگی کہ اس کے مرکزی کام کو مختلف ڈیپاٹمنٹس میں اسی طرح تقسیم کیا جائے جس طرح کہ گورنمنٹ کے محکمے ہوتے ہیں۔سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو بلکہ وزراء کا طریق ہو۔ہر ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو اور اس کام کا ذمہ دار جو ہر سال اپنے صیغہ کی رپورٹ شائع کرے۔اور ہر صیغہ کے لئے ایک مطمح نظر مقرر کیا جائے جس کے متعلق وہ ناظر بتائے کہ اس نے اس میں سے کس قدر حصہ کو پورا کرلیا ہے اور باقی کے پورا کرنے کی وہ کب تک امید کرتا ہے۔مثلاً ایک صیغہ تبلیغ کا ہو، ایک صیغہ تعلیم و تربیت کا ہو جس کے ذمہ یہ بات ہے کہ وہ ہر مسلمان کو تعلیم یافتہ بنانے کی کوشش کرے اور اس کی صحیح تربیت کا نگران ہو۔اس صیغہ کے متعلق ایک نہایت ضروری سلسلہ سکولوں اور کالجوں کے طلباء کے اندر قومی روح پھونکنے کا ہو۔ہر جگہ جہاں کوئی سکول یا کالج ہو یہ انتظام کیا جائے کہ لیکچروں، وعظوں، ٹریکٹوں اور دوسرے ذرائع سے نوجوانوں کے اندر قربانی کی روح پھو نکی جائے اور خود غرضی کا مادہ دور کرنے کی کوشش کی جائے۔سیاست حاضرہ میرے نزدیک طلباء کے لئے مفید نہیں ہو سکتی بلکہ اس میں شُغل ان کے لئے مُضر ہوتا ہے لیکن اصول سیاست کے ماتحت ان میں قومی روح کا پیدا کرنا نہایت مفید اور ضروری ہے۔میرے نزدیک مسلمانوں کی بڑی تباہی کا باعث افراد کی عدم تربیت اور خودغرضانہ