انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 85 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 85

۸۵ مارے۔اس لئے میں اپنے دوستوں کو یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ وہ صداقت اور راستی کے سچے حامل بن سکیں۔رسول اور دوسرے لوگوں میں فرق قرآن کریم میں ہم دیکھتے ہیں کہ ہر زمانہ میں رسالت کے لئے خدا تعالی بندوں میں سے کسی ایک بندے کو منتخب کرتا ہے، ہر ایک کو رسول نہیں بنادیتا۔اس کی وجہ یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی پاکیزگی، طہارت، اخلاص، محبت، جوش، ہمدردی میں سب سے آگے ہوتا ہے۔ورنہ پیغام اور احکام الہٰی تو ایک مومن بھی پہنچاتا ہے اور اس طرح وہ بھی رسول ہی ہوتا ہے۔فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اس کو خدا کا پیغام بذریعہ وحی ملتا ہے۔یعنی جو کلام اس پر نازل ہوا ہے وہ فرشتہ لاتا ہے اور نبی اسے تمام بندوں تک پہنچاتا ہے۔لیکن ہم جو اس کا کلام بندوں تک پہنچاتے ہیں وہ ہمیں فرشتہ کے واسطہ سے نہیں ملتا بلکہ ایک ایسے انسان کی وساطت سے ملتا ہے جسے خدا تعالی رسالت کے لئے منتخب کرتا ہے مگر پیغام دونوں ایک ہی پہنچاتے ہیں۔فرق اگر ہے تو درجہ کا ہے جس کی وجہ سے ہمارے منتخب کئے جانے سے پہلے خدا تعالی نے اس کو ہم میں سے چن لیا ہوتا ہے۔اگر ہمارا اخلاص، ہماری محبت، ہماری خلق اللہ سے ہمدردی زیادہ بڑھی ہوئی ہوتی تو خدا تعالی ہمیں براہ راست رسالت کے لئے منتخب کرتا۔دوسرا فرق جو اس کے اور ہمارے درمیان ہے وہ یہ ہے کہ وہ اپنے اعلیٰ مرتبہ اور مقام کی وجہ سے سب کچھ براہ راست مشاہدہ کرتا ہے۔اس وجہ سے جس طرح اس کے اندر ایمان کی لہر اور اخلاص و محبت کا جوش پیدا ہو سکتا ہے ہمارے دلوں میں وہ ایمانی لہراور وہ جوشِ اخلاص پیدا نہیں ہوتا۔پس ہرایک وہ شخص جو امت محمدیہ میں سے خدا تعالی کے احکام اور اس کے کلام کو دنیا تک پہنچاتا ہے وہ ایک رنگ میں رسول ہی ہے۔اس لئے اس کے واسطے ضروری ہے کہ وہ بھی ظلّی طور پر رسول کریم ﷺ کا علم، معرفت، اخلاص اور محبت الہٰی اور ہمدردی خلق اپنے اندر پیدا کرے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی بعثت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے بھی اسی جوہر کو اپنے اندر کامل طور پر پیدا کیا جس کی وجہ سے اس زمانہ میں وہی رسالت کے لئے منتخب کئے گئے اور پھر ان کے واسطہ سے ہم بھی پیغام الہٰی کے پہنچانے والا بنے۔پس جو لوگ نائب رسول ہو کر رسول بنتے میں جب تک وہ بھی خدا تعالی کی محبت اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کامل