انوارالعلوم (جلد 9) — Page 621
۶۲۱ بسم الله الرحمن الرحيم نحمدہ و نصلی على رسوله الكريم خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ۔ھو الناصر موجودہ بے چینی کے چند شاخسانے جیسا کہ قاعدہ ہے کہ ہر ایک اہم امر کے ساتھ چند ضمنی امور پیدا ہو جایا کرتے ہیں جو بعض وقت اصل معاملہ سے بھی زیادہ لوگوں کی توجہ کو اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اسی طرح موجودہ بے چینی میں بھی ہوا ہے۔راجپال کی کتاب کے متعلق مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہوئی۔گورنمنٹ اس کے علاج کی فکر میں تھی کہ کنوردلیپ سنگھ صاحب کا فیصلہ ہوا۔ملک کی بد قسمتی سے وہ فیصلہ گورنمنٹ اور مسلمانوں کے خیالات کے خلاف ہوا۔اس پر طبعاً مسلمانوں کے بے چینی اور بڑھی۔اتنے میں ورتمان میں ایک مضمون شائع ہوا جو مسلمانوں کے نزدیک پہلے سب مضامین سے بڑھ گیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ گورنمنٹ اپنی طرف سے مسلمانوں کی دلجوئی کے لئے ہر ایک ممکن کوشش کر رہی تھی بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر آج سَرہیلی کی جگہ کوئی مسلمان گور نر ہو تا تو وہ بھی ہتک رسول کریم ﷺکے مضامین کے معاملہ میں سَرہیلی سے زیادہ کچھ نہ کرتا اور کچھ نہ کر سکتا۔مگر بعض طبائع جوش کے انتہائی اثرات کے ماتحت اس خد مت کا اندازہ نہ کر سکیں اور شورش اور بڑھ گئی۔اس شوری کے متعلق اب دو اور شاخسانے پیدا ہو گئے ہیں۔پنجاب کونسل میں لاہور کے پچھلے جلسوں کے ذکر کے دوران میں سر جیفرے مانٹ مورنسی وزیر مالیہ نے بیان کیا کہ جس وقت ایک جلسہ کو منتشر کرنے کا حکم دیا گیا اور ڈپٹی کمشنر صاحب اس جلسہ میں پہنچ گئے تو چوہدری افضل حق صاحب جو اس جلسہ کے پریذیڈنٹ تھے اور اس وقت نہایت سخت تقریر کر رہے تھے انہوں نے ڈپٹی کمشنر صاحب کو دیکھتے ہی اپنی تقریر کا لہجہ بدل لیا اور نرم الفاظ استعال کرنے لگے۔دوسری بات سر جیفرے مائنٹ مورنسی نے یہ بیان فرمائی کہ گورنمنٹ برطانیہ نے