انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 30 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 30

۳۰ بڑھاتا ہے اور اس کے لئے ہر ایک قسم کی قربانی اختیار کرتا ہے وہ ایسے ہزار آدمیوں سے بھی بدرجہا بہتر ہے جو نہ خود آگے بڑھیں بلکہ دوسروں کے بڑھنے میں بھی روک ہوں اس لئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں اس امر کا خیال ہرگز نہ کروں کہ اس بوجھ کا کمزوروں پر کیا اثر پڑے گا۔جس قدر کوشش کرنے والے اور خدا کی راہ میں ہر طرح کی قربانی کرنے والے ہیں وہ ممتاز ہو جائیں اور کمزوروں کا خیال چھوڑ دیا جائے بلکہ ان کا جدا ہو جانا ہی بہتر ہے۔یہ وقت ہے کہ جو کچھ بھی ہے ہم خدا کی راہ میں قربان کر دیں اور ہماری کوئی کوشش ادھوری نہ رہے کہ خدا کی نصرت بھی ہم پر ادھوری نہ ہو۔جب انسان ڈرتے ڈرتے خدا کی راہ میں کوشش کرتا ہے تو اس کی نصرت بھی کھلے طور پر نازل نہیں ہوتی۔چونکہ ہمیشہ ایسی تحریکوں میں حصہ لینے کا قادیان کے لوگوں کو سب سے پہلے موقع دیا جا تا ہے اس لئے اب بھی عام جماعت میں اس اعلان کے شائع کرنے سے پہلے آپ کو موقع دیا جاتا ہے۔منافق اور کمزور لوگ اسی قربانی کی تحریکوں میں بہت گھبراتے ہیں اور وہ کوشش کرتے ہیں کہ اس قربانی سے بچ جائیں یا ان کے کان میں وہ آواز نہ پڑے یا سب سے آخر ان کے کان تک وہ تحریک پہنچی۔لیکن مومن ایسی تحریکوں پر گھبراتا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے اور اس کو فخر ہوتا ہے کہ تحریک سب سے پہلے مجھے تک پہنچی۔وہ ڈرتا نہیں بلکہ اس پر اس کو ناز ہوتا ہے اور خدا تعالی کا وہ شکریہ ادا کرتا ہے اور سب سے زیادہ اس کی راہ میں قربانی کرتا ہے اور درجہ بھی سب سے بڑھ کر پاتا ہے۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جو جو قربانیاں حضرت ابو بکر نے کیں یا جس جس خد مت کا ان کو موقع حاصل ہوا ہے وہ آرزو کرتے تھے کہ مجھے سب سے پہلے ان قربانیوں کا کیوں موقع ملا۔انہوں نے بڑی خوشی کے ساتھ اپنے آپ کو خطرات میں ڈالا اور خدا کی راہ میں تکلیفیں اٹھائیں اس لئے انہوں نے وہ درجہ پایا جو حضرت عمر بھی نہ پا سکے۔کیونکہ جو پہلے ایمان لاتا ہے اس کو سب سے پہلے قربانیوں کا موقع ملتا ہے حالانکہ خطرات حضرت عمر کے ایمان لانے کے وقت بھی تھے۔تکلیفیں دی جاتی تھیں ، نمازیں نہیں پڑھنے دیتے تھے ، صحابہ وطنوں سے بے وطن ہو رہے تھے، پہلی ہجرت حبشہ جاری تھی، ترقیوں کا زمانہ ان کے ایمان لانے کے بہت بعد شروع ہوا مگر پھر بھی جو مرتبہ حضرت ابو بکر کو ابتداء میں ایمان لانے اور ابتداء میں قربانیوں کا موقع میسر آنے کی وجہ سے حاصل ہوا حضرت عمر اس کی برابری نہ کر سکے۔یہی وجہ ہے ایک دفعہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر کا اختلاف ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ جس وقت اسلام سے انکار کر رہے تھے اس وقت ابو بکرنے