انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 569 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 569

۵۶۹ دُور کرنا ان کا سب سے پہلا فرض ہے۔اپنے روپیہ کو محفوظ کر کے وہ دیکھیں تو سہی کہ کس طرح مخالفین اسلام کی طاقت آپ ہی آپ ٹوٹ جاتی ہے اور خود ان میں پھوٹ پڑ جاتی ہے۔جو لوگ آج مسلم آؤٹ لک کے بہادر ایڈیٹر اور جری مالک کے پیچھے جیل خانہ جانے کے لئے تیار ہیں میں ان سے کہتا ہوں آپ کا کام جیل خانہ کے باہر ہے۔ان چیزوں میں ہندوؤں سے چُھوت چھات کروجن میں ہندو چُھوت کرتے ہیں اور دوسری چیزوں میں مسلمانوں کی مدد کرو تو یہ بہترین تدبیر ہوگی جس سے آپ ان جیل میں جانے والوں کی مدد کر سکیں گے اور ان کے کام کو کامیاب بنا سکیں گے۔چاہئے کہ اس وقت سب جگہ کے مسلمان اس امر پر اتفاق کر لیں کہ جلد سے جلد ہر قسم کی دکانیں مسلمانوں کی نکل آئیں اور جہاں تک ہو سکے مسلمان ان ہی سے سودے خریدیں۔بائیکاٹ کے طور پر نہیں بلکہ صرف ہندوؤں کی تدابیر کے جواب کے طور پر اور اپنی قوم کو اُبھارنے کے لئے۔ٍ اے بھائیو! یاد رکھو کہ صرف جلسوں میں ریزولیوشن پاس کرنے سے کچھ نہ بنے گا کیونکہ ان کا کوئی مادی اثر نہیں۔جیل خانوں میں جانے سے کچھ نہیں بنے گا کیونکہ اس میں خود ہمارا اپنا نقصان ہے۔عقلمندوہ کام کرتا ہے جس سے اس کا فائدہ ہو۔اور اس وقت اسلام اور مسلمانوں کا فائدہ اس میں ہے کہ مسلمانوں کی تمدنی حالت کو درست کیا جائے۔ان کی اپنی دکانیں کھولی جائیں۔آڑھت بالکل ہندوؤں کے قبضہ میں ہے اور اس سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچتا ہے۔مسلمانوں کی آڑھت ہمیں مسلمانوں کی آڑھت کی دکانیں کھلوانے کی پوری کوشش کرنی چاہئے۔جب تک آڑھت کی دکانیں نہیں کھلیں گی کبھی مسلمان زمیندار اور دُکاندار ہیں پنپ سکتے۔اند میر ہے کہ جو روپیے اس وقت ہندو تبلیغ پر خرچ ہو رہا ہے اس کا کافی حصہ مسلمانوں کے گھروں سے خاص اس غرض سے جاتا ہے۔عام طور پر ہندو آڑھتی ہر مسلمان زمیندار سے ہر سودے کے وقت ایک مقررہ رقم لیتا ہے کہ اتنی گئوشالہ کے لئے ہے، اس قدر دھرم ارتھ کے لئے، اتنی یتیموں کے لئے۔اور اس سے مراد مسلمان یتیم خانے اور مسلمانوں کے کام نہیں ہوتے بلکہ اس ہندوؤں کے کام ہوتے ہیں۔اب غور کرو کہ پنجاب میں کس قدر رقم مسلمان خالص ہندو کاموں کے لئے دیتے ہیں۔پس جب تک مسلمان ان رقوم کو بند نہ کریں گے اور اپنی رقوم کو اسلام کی ترقی کے لئے خرچ نہیں کریں گے وہ پروپیگنڈا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کے خلاف ہو رہا ہے کبھی بند نہ ہو گا۔لوگ کہتے ہیں مٹھائیاں و برف وغیرہ کہاں سے لیں۔میں کہتا ہوں۔اسے بھائیو! تمہارے بھائی اسلام کی عزت کے لئے برفوں