انوارالعلوم (جلد 9) — Page 570
۵۷۰ سے نہیں اپنے بیوی بچوں کی صحبتوں سے بھی محروم ہو گئے ہیں کیا تم برف اور مٹھائی ترک نہیں کر سکتے۔اور کیا مسلمان کا دماغ اور سب کام کر سکتا ہے مگر یہ کام نہیں کر سکتے۔تبلیغ اسلام دوسرا کام جو حقیقی کام ہے لیکن ابتداءً اس کا اثر ہندوؤں پر ایسا نہ ہو گا جیسا کہ پہلے کام کا، وہ تبلیغ اسلام ہے۔ہندوؤں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے خلاف حملہ کرنے کی جرأت صرف اس خیال سے ہے کہ وہ خیال کرتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں خالص ہندو مذہب قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔اگر ہم تبلیغ کے کام کو خاص زور سے اختیار کریں تو اسلام میں ایسی طاقت ہے کہ کوئی مذہب اس کے مقابلہ میں ٹھہر ہی نہیں سکتا۔پس یقیناً اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ بہت جلد بہت سی ہندو اقوام جو برہمنک اصول مدارج سے تنگ آچکی ہیں اسلام میں داخل ہونے لگیں گی اور ہندوؤں کو معلوم ہو جائے گا کہ مسلمانوں کو ہندو بنا لینے کا خیال بالکل وہم ہے اور خود بخود ان کا جوش ٹھنڈا ہو جائے گا۔سیاسی حقوق کا فیصلہ تیسری تدبیر یہ ہے کہ مسلمان اپنے سیاسی حقوق کا استقلال سے مطالبہ کریں۔میں حیران ہوں کہ مسلمان کس طرح اس امر پر راضی ہو گئے کہ چین فی صدی آبادی کے باوجود چالیس فیصدی حقوق انہوں نے طلب کئے لیکن ملے اب تک وہ بھی نہیں۔مسلمانوں کی یہ ایک بہت بڑی غلطی تھی کہ وہ ملازمتوں کو حقیر چیز خیال کرتے تھے۔ملازمت اگر ایسی ہی حقیر ہوتی تو ہندو جو ایک بیدار قوم ہے کیوں اس طرح اس کی خاطراپنی تمام تر طاقت خرچ کر دیتی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ملازمت اپنی ذات میں بڑی شئے نہیں لیکن اس کا واسطہ تمدنی ترقی سے اس قدر ہے کہ اس میں کمی یا زیادتی قوم کو تباہ کر سکتی یا بنا سکتی ہے۔ملازمت کے سوا قومی گزارم کاذریعہ یا زراعت ہے یا ٹھیکہ داری یا صنعت و حرفت۔مگر کیا زراعت کی کامیابی نہروں، تحصیل کے عملہ اور جوڈیشری پر موقوف نہیں۔ٹھیکہ داری پبلک ور کس ریلوے اور نہروں سے متعلق نہیں۔اور تجارت اور صنعت و حرفت گورنمنٹ سپلائی کے ساتھ وابستہ تھیں۔جن لوگوں کے پاس ملازمتیں ہوں گی وہی ان کاموں میں ترقی کریں گے اور کر رہے ہیں۔جس قدر بڑے بڑے مالدار ہندو اس وقت ہیں ان میں سے اکثر کو دیکھ لو کہ ان کی ترقی کا پہلا زینہ سرکاری ٹھیکہ داری پاؤ گے اور اس کا باعث ہنده افسرہوگا۔پس مسلمانوں کو یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ اپنی تعداد کے مطایق یا کم سے کم پچاس فی صدی تک اپنے حقوق کو حاصل کرنے کی متواتر کوششیں کریں۔اور اس وقت تک بس نہ کریں جب تک کہ یہ