انوارالعلوم (جلد 9) — Page 490
۴۹۰ بیٹھ جائیں جو بڑے ہو کر کوشش کرنے پر بھی نہیں بیٹھتیں کیونکہ بچپن کا حافظہ تیز اور ذہنی طاقتیں مضبوط ہوتی ہیں۔پھر چونکہ انہی بچوں نے بڑے ہو کر قوم بننا ہے اس لئے بھی ضروری ہے کہ انہیں اسی وقت سے اس قسم کی تربیت دی جائے کہ وہ صحیح طور پر بہترین قوم بن سکیں ان کے لئے اس قسم کی کتابیں، رسالے اور اخبارات ہونے چاہئیں جو ان کے لئے نہ جسمانی طور پر نقصان دہ ہوں نہ علمی اور روحانی رنگ میں۔اور اگر ذرا سی کوشش کی جائے تو ایسالڑ یچر آسانی کے ساتھ بہم پہنچ سکتا ہے۔امراء غرباء سے میل جول رکھیں مسلمانوں کی ترقی کے لئے ایک اور امر جس کی سخت ضرورت ہے یہ ہے کہ امراء غرباء سے میل جول پیدا کریں۔ہندوؤں میں تو یہ بات ہے کہ ان کے بڑے بڑے لوگ چھوٹے لوگوں سے ملتے رہتے ہیں لیکن مسلمانوں میں یہ بات اول تو ہے نہیں اور جو ہے تو اس قدر کم کہ اسے نہ ہونے کے برابر کہا جاسکتا ہے۔پس ضرورت ہے کہ جو بڑے ہیں اور جن کو خدا نے امارت دی ہے و ہ غرباء سے تعلقات بڑھائیں ان کی ضروریات معلوم کریں ان سے ملتے رہنے سے یہ فائدہ ہو گا کہ وہ سمجھیں گے یہ ہم سے محبت کرتے ہیں پھر وہ بھی محبت کرنے لگیں گے اور محبت سے اتفاق کی روح پیدا ہوا کرتی ہے۔اب تو مسلمانوں میں سے جو بڑے ہیں ان کے مکانوں کے پاس تک جانے سے عوام خوف کھاتے ہیں اور اس میں کچھ شک نہیں انہوں نے اپنی طرزہی اس طرح بنارکھی ہے کہ لوگ ان سے ڈریں لیکن اگر ان سے اپنی ہی قوم ڈرتی رہی تو کسی ترقی کی امید کس طرح ہو سکتی ہے۔پس جو بڑے ہیں وہ چھوٹوں سے ملتے رہیں تا چھوٹے درجہ کے لوگوں کو بھی اپنا اور اپنی قومیت کا احساس ہو اور جب احساس پیدا ہو گا تو پھر انہیں اپنی حفاظت کا خیال بھی آۓ گا اور ترقی اور کامیابی کی اُمنگیں پیدا ہو جائیں گی۔چُھوت چھات سے نجات چھوت چھات کے ذریعے بھی ہم اپنی طاقت مضبوط کر سکتے ہیں۔میں دیکھ رہا ہوں چھ سو سال سے مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ ایسے طور پر ہندوؤں کے گھر جا رہا ہے جس کی واپسی کی مسلمانوں کو کوئی امید نہیں اور کوئی ذریعہ نہیں کہ وہ وصول ہو سکے۔میں مثال کے طور پر صرف حلوائیوں کی دُکانوں کو لیتا ہوں مٹھائی کا استعمال اس ملک میں کثرت سے ہے ہر بازار میں ہر دس دُکانوں کے بعد ایک دُکان ہندو حلوائی کی نظر آتی ہے۔ہندو تو ان سے لیتے ہی ہیں مگر مسلمان بھی انہی سے خریدتے ہیں اس