انوارالعلوم (جلد 9) — Page 491
۴۹۱ طرح مسلمانوں کا کروڑوں روپیہ ہر سال ہندوؤں کے گھر جا پڑتا ہے۔اور چونکہ ہندو مسلمانوں سے خوردنی اشیا نہیں خریدتے یہ کروڑوں روپیہ جو ہر سال ہندوؤں کے پاس جاتا ہے اس کا کوئی حصہ مسلمانوں کے گھر واپس نہیں آتا پس اس طرح ہندوؤ ں کی دولت روز بڑھ رہی ہے اور مسلمانوں کی کم ہو رہی ہے۔میں عداوت نہیں پھیلانا چاہتا بلکہ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ اگر چھوت چھات اپنی تمدنی زندگی کے لئے مفید ہے اور اس سے اقتصادی حالت درست ہو سکتی ہے تو ہمیں بھی یہ ذریعہ اختیار کرنا چاہئے اور اپنی بہتری اور بہبودی کے لئے اگر کوئی طریقہ اختیار کیا جائے تو اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ دوسرے کو نقصان پہنچانے کے لئے یا دشمنی اور عداوت پیدا کرنے کے لئے ایسا کیا گیا۔میرے مدنظر مسلمانوں کے مفاد ہیں اور میں نے ان کے مفاد کے واسطے کہا ہے کہ ہمیں چھوت چھات کے ذریعہ وہ روپیہ بچانا چاہئے جو ہندوؤں کے گھر اس وجہ سے ہمیشہ کے لئے چلا جاتا ہے کہ وہ ہم سے چھوت چھات کرتے ہیں اور ہم ان سے نہیں کرتے اور میں سمجھتا ہوں کہ اگر مسلمانوں کا یہ روپیہ مسلمانوں کے ہی پاس رہے تو مسلمانوں کی حالت بہت حد تک درست ہو سکتی ہے۔پس ان چیزوں میں چھوت چھات جن میں ہندو مسلمانوں سے چھوت چھات کرتے ہیں مسلمانوں کے اسے ایک علاج کے طور پر ضروری ہے۔کُتب تاریخ کی اصلاح ہمارے مدارس میں تاریخ کی جو کتابیں پڑھائی جاتی ہیں ان سے ہمارا قومی کیریکٹر پچھ خراب ہو چکا ہے اور کچھ ہو رہا ہے کیونکہ ان میں مسلمان بچوں کے باپ دادوں کو چور، ڈاکو ، لٹیرے وغیرہ کہا گیا ہے اور بچے جب پڑھتے ہیں تو اپنے آپ کو چوروں، ڈاکووں اور لُٹیروں کی اولاد سمجھتے ہیں پس اس کی اصلاح کی بھی سخت ضرورت ہے۔گو بڑے ہونے پر جب تحقیقی طور پر ان کے سامنے واقعات آتے ہیں تو ان میں سے بعض کے دماغ سے یہ بات نکل جاتی ہے لیکن بچپن کا اثر مٹانے کی ہر اک میں طاقت نہیں ہوتی اور پھر جو اس اثر کو مٹاڈالتے ہیں وہ بھی اس عمر کے بعد جس میں کیریکٹر بنتا ہے اس بات پر قادر ہو سکتے ہیں بھلا وہ بچے جن کے ذہن میں چھوٹی عمر سے یہ ڈالا جائے کہ تمہارے باپ دادے چور اور ڈاکو تھے کس طرح بلند حوصلہ ہو سکتے ہیں اور کس طرح قومی کیریکٹر ان میں پیدا ہو سکتا ہے؟ پس ضرورت ہے کہ موجودہ کتب تاریخ میں اصلاح کی جائے ان تاریخوں میں تو اورنگ زیب کو بھی جو ایک عابد اور پرہیز گار بادشاہ تھا ڈاکو اور لٹیرا کہا گیا ہے اور سیواجی کو بڑا ہوشیار، دانا بادشاہ۔اب بچوں میں اتنا مادہ تمیز کا تو نہیں ہوتا کہ وہ چھان بین کر سکیں اس لئے وہ اس اثر کے ماتحت رہتے ہیں