انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 486 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 486

۴۸۶ آزادی رائے اتحاد بین المسلمین کے لئے دوسری چیز جس کی ضرورت ہے وہ آزادی رائے ہے باہمی اتحاد کے لئے اس کی اشد ضرورت ہے اگر اسے نظرانداز کردیا جائے تو اتحاد نہیں ہو سکتا اگر ہو جائے تو قائم نہیں رہ سکتا۔إختلاف امتی رحمۃ آزادی رائے کے ساتھ ہی اختلاف رائے پیدا ہوتا ہے اور یہ مضر نہیں ہوا کرتا بلکہ رحمت اور برکت کا باعث ہوتا ہے۔جیسا کہ ایک حدیث میں ہے۔اختلاف ام زخم ملے ۱۷؎ میری امت کا اختلاف بھی رحمت ہو گا۔یعنی امت کی حد میں رہ کر جس قدر اختلاف وہ کریں وہ مضر نہ ہو گا بلکہ مفید ہو گا۔اور اس میں کیا شک ہے کہ تمام ترقیاں اختلاف رائے سے پیدا ہوتی ہیں۔اگر پچھلے پہلوں سے اختلاف نہ کرتے تو حساب، سائنس، کیمسٹری، فزکس، علم طبقات الارض اور ہیئت اور دوسرے علوم میں کوئی بھی ترقی نہ ہوتی۔لوگ اپنی جگہوں پر کھڑے رہتے اور پھر قانون قدرت کے اس اصل کے ماتحت کہ جو کھڑا ہوا رہ گیا، وہ تباہ ہو جاتے اور نسل انسانی برباد ہو جاتی۔پس اختلاف تو ایک ضروری اور مفید شئے ہے اس کا مٹا نا قوم کے لئے زہر ہے۔ہاں اس کا حد کے اندر رکھنا بھی نہایت ضروری ہے تا دریا کی طرح اپنے پاٹ سے باہر ہو کر تباہی اور بربادی کا موجب نہ ہو۔میں جب ولایت سے واپس آیا تو میں نے اپنے سیکر ٹریوں میں سے ایک کو گاندھی جی کے پاس بھیجا کہ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں انہوں نے دہلی کے پروگرام میں فرق کر کے بمبئی میں مجھ سے ملاقات کا وقت مقرر کیا میں نے عند الملاقات ان کو اس مسئلہ کی طرف توجہ دلائی کہ کانگرس اس وقت تک ملک کی نمائندہ نہیں ہو سکتی جب تک ہر خیال کے آدمی اس میں شامل نہ ہوں۔صرف وہی جماعت ملکی نمائندہ کہلائے گی جس میں اختلاف خیالات رکھنے والے بھی ہوں۔اختلاف کی حد بندی ہونی چاہئے یہ نہیں ہونا چاہئے کہ یونہی فساد کھڑا کر دیا جائے۔ہمیشہ نرمی اور محبت کو استعمال کیا جائے۔پس ہمیں چاہئے کہ اختلاف کی حد بندی تو کریں اور اتحاد بین المسلمین کے لئے آزادی رائے کو قربان نہ کریں بلکہ اس کی موجویدگی میں اتحاد کی بنیاد رکھیں۔ہندوؤں اور مسلمانوں کا اپنے اپنے لیڈروں سے سلوک ہندوؤں میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ وہ باوجود اختلاف رائے کے قومی مقاصد کے لئے متحد ہوتے ہیں۔پچھلے دنوں جب شورش ہوئی تو ہندو لیڈروں میں سے گاندھی جی ایک طرف تھے اور پنڈت مالوی صاحب ایک