انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 487 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 487

۴۸۷ طرف۔اسی طرح مسلمانوں میں مولوی محمد علی اور ابو الکلام ایک طرف اور مسٹر جناح اور سرشفیع ایک طرف۔جس طرح گاندھی جی اور مالوی جی کا اختلاف تھا اسی طرح محمد علی اور ابو الکلام صاحب مسٹر جناح اور سر شفیع میں اختلاف تھا لیکن ہندوؤں کی تو یہ حالت تھی کہ جو لوگ مالوی جی کے ہم خیال تھے وہ گاندھی جی کی بھی عزت کرتے اور جو گاندھی بی کے طرف دار تھے وہ مالوی جی سے اظہار خلوص کرتے حالانکہ اس وقت ان دونوں اور ان کے ہم خیال لوگوں میں سخت اختلاف تھا۔اس کے مقابلہ میں مسلمانوں نے یہ طریق استعمال کیا کہ ایک لیڈر کے ہم خیالوں نے دوسرے لیڈر اور اس کے ہم خیالوں کی تذلیل کی اس طرح مسلمانوں نے اپنے ہاتھ سے اپنے پاؤں کاٹ لئے۔میں نے اس وقت مسلمانوں کو سمجھایا کہ جن لیڈروں نے خدمات کی ہیں ان سے یہ سلوک نہیں ہونا چاہیے مگر کسی نے نہ سنا۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان کو آپریشن کی پالیسی جب ناکام رہی تو ہندوؤں کی طرف سے مالوی جی نے گورنمنٹ میں کہہ دیا کہ گاندھی جی اصلی لیڈر نہیں ہم لوگ اصل لیڈر تھے اور چونکہ ان کی عزت ہروقت قائم رہی ان کی بات تسلیم کرلی گئی اور کہا گیا کہ ہندو قوم نے بہ حیثیت قوم جادة اعتدال سے اپناقدم نہیں نکالا تھا لیکن چونکہ مسلمانوں نے اپنے لیڈروں کی ہتک کی تھی وہ یہ نہ کہہ سکے اور مسلمان ہی گھاٹے میں رہے۔اور حقیقت اختلاف پر عداوت کا پیدا کر لینا ایک خود کشی کی پالیسی ہے جس سے اجتناب ضروری ہے۔افراد اور قوم کے حقوق کی نگہداشت اتحاد کے لئے مختلف فرقوں کے حقوق کی نگہداشت بھی نہایت ضروری ہے جب تک پورے طور پر اس کا خیال نہ رکھاجاۓ اتحاد نہیں ہو سکتا۔چونکہ انفرادی رنگ میں بھی اور جماعتی رنگ میں بھی ایک دوسرے کے حقوق کی نگہداشت نہیں کی جاتی اس وجہ سے جو جماعتیں قلیل اور کمزور ہیں وہ کثیر اور مضبوط جماعتوں کے ساتھ نہیں ملتیں کیونکہ انہیں خوف ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ ملنے سے کہیں اور نقصان نہ ہو۔جب مختلف فرقے مسلمانوں میں موجود ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ بغیر ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت کرنے کے وہ آپس میں مل سکیں۔مثلا ًشیعہ ہیں وہ سب مذہبی تعصبوں اور بُغضوں کو چھوڑ کر سنّیوں سے ملنا چاہیں تو ان کے لئے اگر کوئی روگ ہو گی تو یہی کہ سنی شاید ہمارے حقوق کی نگہداشت نہ کریں اور ہم جو اس وقت تک اپنے حقوق کی آپ حفاظت کرتے چلے آتے ہیں اس حفاظت سے بھی ہاتھ نہ دھو بیٹھیں۔