انوارالعلوم (جلد 9) — Page 438
۴۳۸ ہے۔آخر وہ رحم کرنے والا اور فضل کرنے والا ہے۔کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ کسی کی محنت کو ضائع کر دے۔پس پورے جوش اور پوری ہمت کے ساتھ تقویٰ پر نہ صرف خود قائم ہو جاؤ بلکہ اسے دنیا میں قائم کرو اور دین کی نصرت کے لئے ایک دوسرے کی مدد کرو، مل کر کام کرو، ایک دوسرے کے ساتھ محبت اور پیار سے پیش آؤ ، ہر بھائی کے ساتھ محبت کا سلوک کرو۔جھگڑوں کو چھوڑ دو اور مصیبتوں میں ایک دوسرے کے کام آؤ۔بعض وقت دیکھا ہے کہ ایک بھائی کے جنازہ پر لوگ نہیں جاسکتے لیکن جب ہم نے ایک بھائی کے جنازہ کے لئے کام کو نہیں چھوڑا تو ہمارا کہاں حق ہو سکتا ہے کہ ہمارے مرنے پر دوسرے لوگ اپنے کاموں کو چھوڑیں۔پس آپس میں ہمدردی اور محبت سے کام کرو۔ابھی ماری جماعت میں ہمدردی اور تعاون باہمی کا مادہ کم ہے جس سے بعض وقت دوستوں کو بہت تکلیف ہوتی ہے۔میں نے سنا ہے کہ بعض موقع پر میت کے ساتھ ایک بھی آدمی (سوائے اس کے رشتہ داروں کے) نہیں گیا اور لوگ عدم فرصتی کا عُذر کرتے ہیں۔یہ عُذر صحیح نہیں۔مجھے یاد ہے کہ پچھلے سال میں جلسہ کے موقع پر ہی ایک جنازہ خود پڑھایا حالانکہ جلسہ پر مجھے کام بھی بہت تھا اور لیکچر بھی دینا تھا۔دنیا میں کبھی محبت اور ہمدردی بغیر ایثار کے نہیں ہوا کرتی۔پس ہمیں وقت اور مال کی قربانی کر کے آپس میں صلح و آشتی پیدا کرنی چاہئے اور اپنے اندر زندگی کی روح پیدا کرنی چاہئے۔(الفضل ۱۱،۱۴ ۱۸-۲۱ جنوری ۱۹۲۷ء)