انوارالعلوم (جلد 9) — Page 429
۴۲۹ کرے گا۔اگر کوئی غلطی بھی اس سے سرزد ہو گی تو اللہ تعالیٰ اس کا محافظ رہے گا کیونکہ و ہ بچہ کی طرح ہو گا جس کی حفاظت اس کی ماں کرتی ہے۔دوسرا ذریعہ تقویٰ کے حصول کا یہ ہے کہ انسان دل میں الله تعالی کی محبت پیدا گے۔جس دل میں اللہ تعالیٰ کی محبت ہو اسے وہ کبھی ضائع نہیں کرتا اور محبت پیدا کرنے کا طریق یہ ہے کہ روزانہ کچھ وقت اس کی صفات پر غور کرے۔جب روزانہ اس کی صفات پر غور کر کے اپنے اندر محبت پیدا کرے گا تو کوئی چیز اس محبت کو مٹا نہیں سکے گی۔پس روزانہ ایک وقت اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرو۔یہ سوچو کہ تمہارے ساتھ اس کی کونسی صفات تعلق رکھتی ہیں اور کس رنگ میں اور کس قدر ان کا فیضان تم کو پہنچ رہا ہے۔پھر اس کے انعامات پر نظر ڈالوان کو اپنے سامنے لاؤ تب ایک محبت کا دریا تمہارے دلوں میں موجزن ہو جائے گا۔مشکلات اور مصائب بھی نعمت ہوا کرتے ہیں مثلا ً موت ہی کو لے لو۔یہ بڑی مصیبت خیال کی جاتی ہے لیکن خیال کرو اگر یہ موت دنیا میں نہ ہوتی اور کوئی نہ مرتا۔تو آج زمین پر آدمی ایک دوسرے کے ساتھ پھنسے ہوئے ہوتے اور یہاں چلنے کی بھی جگہ نہ ملتی۔اور اس قدر مصیبت ہوتی کہ اگر دو چار صدیاں بھی موت دنیا سے اُٹھالی جاتی تو سب سے بڑی دُعالوگ موت کے لئے مانگتے۔اگر غور کرو تو ذرہ ذرہ میں اللہ تعالیٰ کی رحمت نظر آتی ہے۔غرض جب اللہ تعالیٰ کی صفات اور انعامات پر روزانہ کچھ وقت لگا کر غور کرو گے تو پھر تھوڑے عرصہ بعدہی دیکھو گے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کی محبت چشمہ کی طرح پھوٹتی ہے۔تیسراذریعہ حصول تقویٰ کا ذکرالہٰی ہے۔جس طرح میں نے بتایا ہے کہ روزانہ ایک خاص وقت میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور انعامات پر غور کیا کرو۔اسی طرح میں یہ بتاتا ہوں کہ ذکرالہٰی کے لئے روزانہ ایک وقت نکالو۔ہماری جماعت کے لوگ ذکرالہٰی سے بہت غافل ہیں۔روزانہ اس وقت اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا خود اپنی ذات میں بہت بڑی نعمت ہے۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ ذکر الہٰی دل کے شیشہ کو جِلا کرنا ہے۔اس کو صیقل کرنا ہے۔نماز تو انسان کو غذا کی طرح ہے اور ذکر الہٰی صیقل کرنا ہے۔مسنون ذکر تحمید، تہلیل، تسبیح ہے۔ذکر الہٰی ایک رنگ میں خدا کے حسن کو دیکھنا ہے اس لئے جو لوگ کرالہٰی کریں گے وہ ضرور اپنے دل میں نیا جوش اور نئی محبت اور ایک صیقل اپنے اندر محسوس کریں گے۔غلطی سے ہماری جماعت کے لوگ سمجھتے کہ ذکر ہوتاہی نہیں اس لئے عام طور پر دوست ذکر کے عادی