انوارالعلوم (جلد 9) — Page 318
۳۱۸ حق الیقین جاتا ہو تب بھی یہ ماننا پڑے گا کہ وہ لفظ اعلیٰ سے اعلیٰ انسان کے لئے بولنا اس کی شان کے خلاف نہیں۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت اس لفظ کا استعمال آپ کی شان کےخلاف نہیں۔کیونکہ یہ کسی عیب پر یا کمزوری پر دلالت نہیں کرتا بلکہ غضب اس موقع پر ایک خوبی ہے جس کا پایا نہ جانا بے غیرتی پر دلالت کرتا ہے۔ٍ مگر مصنف صاحب ہفوات کی تسلی کے لئے ہم استعارۃً اور مجاز کے عذر کو بھی قبول کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے سوا انبیاء اور نیک لوگوں کے لئے اس لفظ کا استعمال قرآن کریم میں دکھا دیتے ہیں۔سورۃ اعراف میں یہی لفظ حضرت موسیٰ کی نسبت آتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ لَمَّا رَجَعَ مُوْسٰۤى اِلٰى قَوْمِهٖ غَضْبَانَ اَسِفًا١ۙ قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُوْنِيْ۠ مِنْۢ بَعْدِيْ۔اور جب موسیٰ اپنی قوم کی طرف ایسی حالت میں لوٹے کہ وہ ان پر غضبناک تھے اور ان کی حالت پر افسوس کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ تم لوگوں نے میرے بعد میری جانشینی بہت بری طرح کی ہے۔اس کے آگے چل کر فرمایا وَ لَمَّا سَكَتَ عَنْ مُّوْسَى الْغَضَبُ اَخَذَ الْاَلْوَاحَ۔اور جب موسیٰ کا غضب ٹھہرگیا تو انہوں نے تختیاں لےلیں۔کیا ان آیات کے مطابق یہ سمجھنا چاہئے کہ نَعُوْذُ بِاللّٰہِ حضرت موسیٰ طور سے واپس آئے اور اپنی قوم کے سمجھانے کے عرصہ میں کارِ نبوت سے معطّل رہے تھے۔اگر نہیں تو رسول کریم کی نسبت یہی لفظ اگر استعمال کیا گیا ہے تو اس کے معنی کارِ نبوت سے معطّل ہونے کے کیونکر ہو گئے۔کیا اس لئے کہ مصنّف ہفوات نے امام بخاری کے پردہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات کو بُرا بھلا کہنے کی ایک سبیل نکالی ہے یا کم سے کم یہ کہ حدیثوں کی برائی ثابت کرنا ان کا اصل مقصد نہیں بلکہ اصل میں صحابہ اور ائمہ دین کو گالیاں دے کر اپنی طبیعت ثانیہ کے مقتضیٰ کو پورا کرنا مطلب ہے۔حضرت موسیٰ کے علاوہ یہی لفظ ایک اور نبی کی نسبت بھی استعمال ہوا ہے اور وہ یونسؑ نبی ہیں جن کو قرآن کریم میں ذوالنون کے لقب سے بھی یاد کیا ہے۔ان کی نسبت سورۃ انبیاء میں آتا ہے۔وَ ذَا النُّوْنِ اِذْ ذَّهَبَ مُغَاضِبًا فَظَنَّ اَنْ لَّنْ نَّقْدِرَ عَلَيْهِ فَنَادٰى فِي الظُّلُمٰتِ اَنْ لَّاۤ اِلٰهَ اِلَّاۤ اَنْتَ سُبْحٰنَكَ١ۖۗ اِنِّيْ كُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِيْنَ۔(ترجمہ) اور ذوالنون کو بھی (ہم نے ہدایت دی تھی) جب کہ وہ غضبناک ہو کر اپنے علاقہ سے چلا اور اسے یقین تھا کہ ہم اس کے ساتھ سختی کا معاملہ نہیں کریں گے۔پس اس یقین کی بنا پر اس نے مصائب کے وقت پکار کر کہا۔تیرے سوا کوئی اور معبود نہیں تو پاک ہے اور میں تو ظالموں میں سے ہوں (یعنی اپنے نفس کو میں نے دکھ میں ڈال