انوارالعلوم (جلد 9) — Page 262
انوار العلوم جلد۹ ۲۶۲ تھا۔تو اِنسان کو چاہئے کہ اپنی پیدائش پر غور کرتا رہے اس سے اس میں تکبّر نہیں پیدا ہوگا اور وہ بہت سے گناہوں سے بچ جائیگا۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے انا خلقنا اللانسان من نطفۃ امشاج نبتلیہ فجعلنہ سمیعا بصیرا ہر ایک اِنسان پر ایسا زمانہ آیا ہے کہ دنیا میں اس کا کوئی مذکور نہ تھا۔پھر ہم نے اس کو مختلف چیزوں کے خواص سے سمیع اور بصیر اِنسان بنادیا۔اِنسان کیا ہے۔ان ہی چیزوں یعنی مختلف قسم کے اناجوں، پھلوں، ترکاریوں اور گوشت کاخلاصہ ہے جو ماں باپ کھاتے ہیں۔بچہ ماں باپ سے ہی پیدا ہوتا ہے اور کبھی کوئی بچہ اآسمان سے نہیں گرا۔دیکھو اگر کسی شخص کی غذا بند کردی جائے تو اس کے ہاں بچہ پیدا ہونا تو درکنار وہ خود بھی زندہ نہیں رہ سکے گا۔پس بچہ ماں باپ کی اس غذا ہی کا خلاصہ ہے جو وہ کھاتے ہیں۔پھر بچہ ہی سے روح پیدا ہوتی ہے عام لوگوں کا خیال ہے کہ بچہ تو ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے، روح کہیں آسمان سے آجاتی ہے جو اللہ کے پاس پہلے ہی موجود ہوتی ہے۔مگر یہ خیال روح کی نسبت غلط ہے۔صحیح یہ ہے کہ روح بھی ماں باپ سے ہی پیدا ہوتی ہے۔اور یہ ایک بے ہودہ اور لغو خیال ہے کہ بچہ تو ماں باپ سے پیدا ہوتا ہے اور روح آسمان سے آتی ہے۔یہ آریوں کاخیال ہے کہ روح ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔اس طرح خداروح کا خالق تو نہ ہؤا۔سورۃ دھر میں اللہ تعالیٰ ماں کے پیٹ میں بچہ کے نشوونما کو اس طرح بتاتا ہے کہ جس وقت دنیا میں اس کا کوئی مذکور نہ تھا ہم نے چند چیزوں کے خلاصہ سے اس کو سمیع اور بصیر اِنسان بنایا۔اور یہ اس غذا ہی کا خلاصہ جو ماں باپ کھاتے تھے۔بچہ کی پیدائش اور روح کی مثال اس طرح ہے جس طرح جَو اور کھجور سے سرکہ بناتے ہیں اور سرکہ سے شراب۔اس طرح بچہ سے روح پیدا ہوجاتی ہے۔گلاب کا عطر گلاب کے پھولوں کا ایک حصہ ہے جو خاص طریقہ پر تیار کرنے سے بن جاتی ہے اسی طرح بچہ کے جسم سے ہی روح تیار ہو جاتی ہے۔ہمارے ملک میں تو ابھی اس قدر علم نہیں ہے یورپ میں دواؤں سے عطر تیار کرتے ہیں۔دو ایک دوائیاں ملائیں اور خوشبو بن گئی۔پس جس طرح پھولوں سے خوشبو اور جَو سے شراب بن جاتی ہے اسی طرح جسم سے روح پیدا ہو جاتی ہے۔پہلے بچے کا جسم پیدا ہوتا ہے اور پھر جسم میں ہی روح پیدا ہو جاتی ہے۔کیونکہ اللہ تعالیٰٰ فرماتا ہے۔انا خلقنا الانسان من نطفۃ کہ گوشت، ترکاریاں، پانی، طرح طرھ کے پھل، ہر ایک قسم کی دالیں جو ماں باپ کھاتے ہیں ان