انوارالعلوم (جلد 9) — Page 263
انوار العلوم جلد۹ ۲۶۳ مختلف قسم کی غذاؤں کا خلاصہ نکال کر ہم نے اِنسان کو پیدا کیا۔پھر انا ھدینہ السبیل اما شاکراً و اما کفورًا ہم نے جو سب چیزوں کے نچوڑ سے خلاصہ بن گیا تھا۔اس پر انعام کیا اور وہ بولتا چالتا اِنسان بن گیا۔پس تم دیکھو کہ تمہاری ابتداء اس طرح پر ہوئی۔اور پیدائش کے لحاظ سے تمہارے اور گائے، بھیڑ، بکری میں کوئی فرق نہیں۔اگر فرق ہؤا تو احسان سے ہؤا ہے اور وہ یہ کہ اس کی طرف وحی بھیجی، اس پر اپنا کلام اتارا اور اس کے اندر یہ قوت رکھ دی کہ چاہے تو شکر کرے اور چاہے تو انکار کرے۔ہم نے اِنسان کو ان حقیر چیزوں سے پیدا کیا اور اس میں یہ قوت رکھ دی کہ چاہے ہماری راہ میں جدوجہد کر کے ہماری رضا کو حاصل کر لے اور چاہے ہمارے نبی کا منکر ہو جائے۔اس کو جو اقتدار حاصل ہے ہم اس میں دخل نہیں دیتے۔ہاں خدا کا کلام اس پر اترا اور اسے بتلایا کہ اس پر چل کر ترقی کر سکتے ہو۔کوئی کہہ سکتا ہے خدا نے اِنسان کو یہ قدرت ہی کیوں دی اور اس کی آزاد کیوں چھوڑا اس سے اس کی کیا غرض تھی؟ سو معلوم ہو کہ اگر خدا اِنسان کو یہ قدرت نہ دیتا تو وہ ترقی بھی نہ کرتا۔دیکھو آگ کی خاصیت جلانا ہے۔آگ میں جو چیز بھی پڑے گی وہ اس کو جلا دے گی۔چاہے وہ چیز آگ جلانے والے کی ہی کیوں نہ ہو۔دیکھو اگر کسی گھر میں چراغ جل رہاہو اور وہ گر پڑے اور سارا گھر جل جائے تو کوئی چراغ کو ملامت نہیں کرے گا۔اسی طرح کوئی شخص آگ کو کبھی کوئی الزام نہیں دیتا۔کیونکہ جانتے ہیں کہ آگ کی خاصیت جلانا ہے۔لیکن اگر کوئی اِنسان کسی کو بلاوجہ انگلی بھی لگائے تو لوگ اس کو ملامت کریں گے۔کیونکہ اس میں یہ بھی مقدرت ہے کہ کسی کو ایذاء نہ پہنچائے۔اسی طرح دیکھو مکان بھی اِنسان کو سردی سے بچاتا ہے مگر کبھی کسی اِنسان نے مکان کا شکریہ ادا نہیں کیا۔اس کے مقابلہ میں کوئی اِنسان کسی کو ایک کرتا دے دیتا ہے تو اس احسان مانتا ہے۔کیونکہ وہ جانتا کہ اس کو اِختیار تھا۔چاہے دیتا چاہے نہ دیتا تو آگ اگر بچہ کو جلادے تو بھی کوئی آگ کی مذمت نہیں کرے گا اور اِنسان اگر انگلی بھی لگائے تو اسے برا بھلا کہیں گے۔اس کی کیاوجہ ہے یہی کہ آگ کو اِختیار نہیں مگر اِنسان کو اِختیار تھا۔چاہے دکھ دیتا چاہے نہ دیتا۔اسی طرح پانی کا کام ہے ڈبونا۔سمندر میں کئی اِنسان ڈوبتے رہتے ہیں۔مگر کبھی کوئی سمندر کو ملامت نہیں کرتا۔کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ قانون ہے۔اس میں سمندر کو اِختیار نہیں۔پھر سارے انعام اِختیار کے ساتھ وابستہ ہیں۔اِنسان کو اس لئے بھی اِختیار دیا گیا کہ اس کو انعام دیا جائے۔اور جو انعام کے قابل ہو سکتا ہے وہی سزا کا بھی مستحق ہو سکتا ہے۔بعض دفعہ بچہ زمین پر گر پڑتا ہے تو