انوارالعلوم (جلد 9) — Page 252
۲۵۲ دعوت کے حصول کا خواہشمند ہے۔خدا تعالیٰ کے قرب کی اسے کوئی پروا نہیں ہے۔اس وجہ سے الہام کی خواہش کرنا درست نہیں ہے۔اَب مَیں پھر اصل مضمون کی طرف آتا ہوں۔یہ اصول جو مَیں نے بیان کئے ہیں اگر ان پر عمل کرنے کے باوجود نیک اعمال میں ترقی نہ ہو اور برائیوں سے انسان بچ نہ سکے تو سمجھنا چاہئے اسے روحانی بیماری نہیں بلکہ جسمانی بیماری ہے۔اسکے اعصاب میں نقص ہے۔ایسی حالت میں اسے ڈاکٹروں سے مشورہ لینا چاہئے۔اور اگر یہ بات میسر نہ ہو۔تو یہ چار باتیں کرے (۱) ورزش کرے۔(۲) دماغی کام چھوڑ دے۔(۳) عمدہ غذا کھائے۔(۴) اپنا دل خوش رکھنے کی کوشش کرے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ بسا اوقات امراض روحانی وہم سے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔جیسے وہم سے جسمانی بیماریاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ایسے ہی وہم سے روحانی بیماریاں بھی لگ جاتی ہیں۔میرا اپنا ہی تجربہ ہے۔جب میں طب پڑھنے لگا تو جو بیماری پڑھتا تھا اس کے متعلق خیال ہوتا تھا کہ یہ تو مجھ میں بھی ہے۔مَیں یہ خیال کرتا تھا کہ شاید یہ میرا ہی حال ہوگا۔لیکن ایک ڈاکٹری کے طالبعلم نے مجھے بتایا کہ اُن کے استاد نے جماعت کو نصیحت کی تھی کہ طلباء کو اس قسم کا وہم ہوا کرتا ہے انہیں اس میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔اس لئے مَیں آپ لوگوں کو بھی نصیحت کرتا ہوں کہ ایسا نہ ہو۔روحانی بیماریوں کا خیال کرکے یہ سمجھنے لگ جائو کہ یہ ہم میں بھی ہے اور اس طرح خواہ مخواہ اپنے آپ کو ان بیماریوں میں مبتلا کر لو۔سُنا ہے ایک اُستاد تھا جو لڑکوں پر بڑا ظلم کرتا تھا۔ایک دن لڑکوں نے ارادہ کیا کسی طرح چھٹی لینی چاہئے۔ایک لڑکے نے کہا اگر میرا ساتھ دو تو مَیں چھٹی لے دیتا ہوں۔مَیں جاکر کہونگا اُستاد جی آپ کو آج کیا ہوا ہے آپ کا چہرہ زرد معلوم ہوتا ہے۔پھر تم آنا اور میری تائید کرنا۔لڑکوں نے یہ تجویز مان لی۔اس پر اُس لڑکے نے جاکر کہا۔اُستاد جی خیریت ہے؟ اُستاد نے کہا کیا بکتا ہے اپنا کام کرو۔اس نے کہا آپ کا چہرہ زرد معلوم ہوتا ہے۔اس پر اُستاد نے اسے گالیاں دیں۔اور دوسرا ایک اور آگیا۔اُس نے آکر بھی یہی کہا۔اُسے بھی گالیاں دیں۔مگر پہلے کی نسبت کم۔آخر لڑکوں نے باری باری آنا اور یہی کہنا شروع کیا۔چھٹے ساتویں لڑکے تک اُستاد جی نے اِتنا مان لیا کہ ذرا طبیعت خراب ہے۔تم تو یونہی پیچھے پڑ گئے ہو۔جب پندرہ سولہ لڑکوں نے کہا تو اُستاد جی کہنے لگا۔کچھ حرارت سی محسوس ہوتی ہے۔اچھا لیٹ جاتا ہوں۔یہ خیال کرتے کرتے اس کو بخار ہو گیا۔اور لڑکوں کو چھٹی دے کر گھر چلا گیا۔لڑکوں نے گھر جاکر اپنی مائوں سے کہا کہ اُستاد جی بیمار ہو گئے ہیں ان کی عیادت کرنی چاہئے۔جب عورتیں ان کے گھر جانے لگیں اور اظہارِ