انوارالعلوم (جلد 9)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 703

انوارالعلوم (جلد 9) — Page 253

۲۵۳ ہمدری کرنے لگیں تو اُس نے سمجھا مَیں تو بہت سخت بیمار ہوں۔آخر اُسی بیماری میں وہ مر گیا۔یہ تو ایک لطیفہ ہے مگر یورپ میں تحقیقات کی گئی ہیں کہ جب سے پیٹنٹ ادویات نکلی ہیں امراض بڑھ گئی ہیں۔ان دوائیوں کے اشتہار میں مشتہرین اس قدر مبالغہ کرتے ہیں کہ ساری مرضیں لکھ کر لکھ دیتے ہیں کہ یہ دوا ان سب بیماریوں کے لئے مفید ہے۔پڑھنے والے کسی نہ کسی مرض میں اپنے آپ کو مبتلا سمجھ کر منگوا لیتے ہیں اور پھر ان کا وہم ترقی کرتا کرتا فی الحقیقت انہیں بیمار بنا دیتا ہے۔پس وہم میں بھی نہیں پڑنا چاہئے۔دوسری بات یہ سمجھ لو جو قومی طور پر بھی ضروری ہے کہ اشاعت فاحشہ نہ ہو۔کئی لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ وہ خواہ مخواہ لوگوں کو بد نام کرنے کے لئے کہنا شروع کر دیتے ہیں۔یہاں کے سب لوگ بد معاش اور دوسروں کا حق مارنے والے ہیں۔پہلے تو کچھ لوگ اسکے خلاف آواز اٹھانے والے بھی ہوتے ہیں مگر پھر وہ بھی یہ کہنے لگ جاتے ہیں کہ اگر ایسے لوگ ہیں تو اپنے گھر میںہیں ہمیں ان سے کیا۔پھر اس سے آگے بڑھتے ہیں اور یہ کہتے ہیں ایسے لوگ ہیں تو سہی مگر ہم کیا کریں۔پھر آہستہ آہستہ یہاں تک نوبت پہنچ جاتی ہے کہ وہ بھی کہنے لگ جاتے ہیں کہ سب لوگ بد معاملہ اور بد معاش ہو گئے ہیں۔ایسے لوگوں کی بات پر کان نہیں دھرنا چاہئے۔ورنہ خود بھی انسان اس بُرائی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے۔جو شخص کسی پر الزام لگاتا ہے وہ خود ایسا ہی ہو جاتا ہے۔اس طرح قومیں برباد ہو جاتی ہیں۔اسلئے جو شخص فواحش کی اشاعت کرے اسکا مقابلہ کرنا چاہئے۔اور اس سے مطالبہ کرنا چاہئے کہ جو بُرا ہے اس کا نام لو عام بات کیوں کہتے ہو کہ سب لوگ ایسے ہو گئے ہیں جو بُرا ہے اس کا نام بتائو اور جس بُرائی میں وہ مبتلا ہے وہ بھی بتائو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں جو قوم کے متعلق کہتا ہے کہ بد ہو گئی وہی شخص انکو بد کار بنا دیگا۔یعنی لوگوں کو کہنا کہ ہماری قوم بُری ہو گئی یہ خیال قوم کو ویسا ہی بنا دیگا۔تو ہمیشہ ایسے قومی دشمن کا مقابلہ کرنا چاہئے جو فحش کی اشاعت کرتا اور قوم کو بُرا کہتا ہو۔لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی کہتا ہوں کہ جو قوم نڈر ہو جاتی ہے وہ بھی تباہ ہو جاتی ہے۔اسلئے اصل علاج یہ ہے کہ ایسے ہر امر کو جو کسی کی بُرائی کے متعلق ہو اسے ادلوالامر تک پہنچانا چاہئے تاکہ وہ اس کی تحقیقات کرے اور پھر اگر وہ نقص ٹھیک ہو تو اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔اس لیکچر کے متعلق میرا اندازہ تھا کہ ایک دن میں ختم ہو جائیگا لیکن جب مَیں نے اسکے نوٹ لکھے تو دو دن میں ختم ہو جانے کا خیال تھا۔لیکن ابھی اصولی چالیس گُر باقی ہیں جو مَیں بیان